Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

ملکوں میں دفاع کے نام پر جس کی ایک مثال انڈیا ہے۔ یہ گن کلچر تقریباً ہر مسلم آبادی میں آچکا ہے۔ کہیں وہ فکری سطح پر ہے اور کہیں عملی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ موجودہ زمانہ میں کچھ نام نہاد مسلم مفکر اٹھے جنہوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر کی اور یہ بتایا کہ اسلام کا اصل نشانہ دنیا میں اسلامی قانون کی حکومت قائم کرنا ہے۔ یہ نظریہ انیسویں صدی کے نصف ثانی اور بیسویں صدی کے نصف اول کے حالات میں مسلمانوں کو کافی پسند آیا اور اس کی بنیاد پر بڑی بڑی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ مگر جو تحریکیں سیاسی اقتدار پر قبضہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہیں۔ اس سے متاثر لوگوں کا موجودہ ذہن یہ ہے کہ ہم نے اسلامی تحریک چلائی مگر ہم کامیاب نہیں ہوئے۔ پھر ہم نے انتخابات میں حصہ لیا تب بھی ہم کامیاب نہ ہوسکے۔ اب ان کے سامنے آخری ممکن راستہ تشدد کا ہے۔ چنانچہ اب وہ مسلم انقلاب کے نظریہ کو اپنا رہے ہیں۔ ہندوستان جیسے ملکوں میں مسلمانوں کے نااہل لیڈروں اور جاہل دانشوروں نے یہی بتایا ہے کہ دستور اور قانونی نظام ان کے تحفظ میں ناکام ہو رہے ہیں۔ اس لئے اب انھیں خود اپنا دفاع کرنا ہے۔ اس طرح سیلف ڈیفنس کا نظریہ اپنے حالات کے اعتبار سے گن کلچر کی طرف لے جارہا ہے۔ یہ ذہن مسلمانوں کے لئے کسی بھی درجہ میں سود مند بننے والا نہیں۔ اس کا واحد انجام یہ ہوگا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تباہی اپنے آخری منطقی نتیجہ تک پہنچ جائے۔ خواہ مسلم اکثریت کا ملک ہو یا مسلم اقلیت کا ملک، دونوں جگہ مسلمانوں کے لئے صرف ایک راستہ ہے اور وہ ایک لفظ میں صبر ہے۔ یعنی ٹکراؤ کے راستہ کو ختم کر دینا اور حالات سے موافقت کر کے اپنے لئے ایک اسلامی زندگی کی تعمیر کرنا۔ اور یہ چیز مسلمانوں کے لئے ہر جگہ قابل حصول ہے۔ اس کو پانے کی راہ میں کہیں بھی کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ رکاوٹیں ناممکن کی طرف دوڑنے کی بنا پر ہیں۔ اگر ممکن کو اپنا نشانہ بنایا جائے تو مسلمانوں کو ہر جگہ عالیشان مواقع کھلے ہوئے نظر آئیں گے۔ یہی ایک لفظ میں زندگی کا راز ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page