Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

اب مجھ کو صرف سائنٹفک زبان پسند آتی ہے۔ ادبی اسٹائل والی زبان سے مجھے سخت بیزاری ہے۔ مگر ابتدائی دور میں ایسا نہ تھا۔ مدرسہ کی تربیت اور ماحول کے اثر سے، دوسرے اکثر لوگوں کی طرح، میں بھی ادبی اسٹائل والی زبان کو اہمیت دیتا تھا اور خود بھی اسی طرح لکھتا تھا۔ غالباً ۱۹۲۵ء کی بات ہے۔ اس وقت میں اعظم گڑھ میں تھا۔ میں نے مولانا سید سلیمان ندوی کی کتاب حیات شبلی پر ایک تنقیدی مضمون لکھا اور اس کو نیاز فتحپوری کے ماہنامہ نگار (لکھنؤ) میں اشاعت کے لئے بھیجا۔ اس کا عنوان میں نے قائم کیا تھا_ اگر وہ مانیں۔ مضمون چھپ کر آیا تو نیاز فتحپوری نے اس کا عنوان اس طرح بدل دیا تھا: سید سلیمان ندوی کی حیات شبلی۔ اپنے پچھلے ذوق کے تحت ان کے اس تصرف پر غصہ آیا۔ میں نے ان کو خط لکھا کہ آپ نے میرے مضمون میں تحریف کردی۔ اس کے جواب میں نیاز فتحپوری نے کارڈ پر ایک مختصر جواب دیا۔ اس کا مضمون یہ تھا: میں نے جو کچھ کیا وہ تحریف نہیں، تصحیف تھی جس کا ہر ایڈیٹر مجاز ہوتا ہے۔ نیاز صاحب نے یہاں تصحیف کا لفظ ایڈیٹنگ کے معنی میں استعمال کیا تھا۔ حالاں کہ تصحیف کے معنی نہیں۔ تصحیف دراصل distortion کے معنی میں آتا ہے۔ ۸ جون ۱۹۹۳ اقبال نے بتایا ہے کہ ایک مرتبہ ایک ترک مجاہد میرے ساتھ نماز پڑھنے گیا تو اس نے دیکھا کہ ہندی مسلمان بہت لمبا سجدہ کرتا ہے۔ اس نے پوچھا کہ اتنا لمبا سجدہ آپ لوگ کیوں کرتے ہیں۔ اقبال نے جواب دیا کہ غلاموں کے پاس اس کے سوا اور کام ہی کیا ہے: کہا مجاہد ترکی نے مجھ سے بعد نماز طویل سجدہ میں کیوں اس قدر تمہارے امام طویل سجدہ اگر ہیں تو کیا تعجب ہے ورائے سجدہ غریبوں کو اور کیا ہے کام (غلاموں کی نماز، ضرب کلیم کلیات اردو، لاہور ۱۹۸۴ء، صفحہ ۶۱ - ۶۲) اقبال شاید سجدہ کے نام سے صرف رسمی سجدہ کو جانتے تھے۔ اس تقابل میں انہیں آزادی اور حکومت جیسی چیزوں کے مقابلہ میں سجدہ بہت کم محسوس ہوا۔ اگر وہ جانتے کہ سجدہ اپنی حقیقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page