آغازِ کلام
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
کے اعتبار سے سب سے بلند انسانی مقام ہے۔ سجدہ کی حالت وہ حالت ہے جس میں انسان قربت خداوندی کا تجربہ کرتا ہے، تو وہ ایسا نہ کہتے۔ کیوں کہ قربت خداوندی سے زیادہ بڑی کوئی چیز انسان کے لئے نہیں ہوسکتی۔ ۹ جون ۱۹۹۳ء ایک مسلمان بزرگ نے کہا کہ آپ اپنے الرسالہ میں مسلمانوں کو ہمیشہ صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ صبر تو بزدلی ہے۔ کیا آپ تمام مسلمانوں کو بزدل بنا دینا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ صبر بزدلی نہیں ، صبر ایک جنتی روش ہے۔ جس آدمی کا ذہن آخرت کی باتوں میں مشغول ہو ، جو آخرت کی یاد میں صبح و شام بسر کرتا ہو اس کا حال یہی ہوگا کہ وہ دنیا کی نا خوشگوار باتوں کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دے گا۔ جس آدمی کی حساسیت آخرت کے بارہ میں زندہ ہو ، اس کی حساسیت دنیا کے بارہ میں کم ہو جائے گی۔ اسی کا نام صابرانہ روش ہے۔ ۱۰ جون ۱۹۹۳ء ایک صاحب نے کہا کہ آج کل ہندوؤں میں ہندوراشٹر کی تحریک چل رہی ہے۔ اس ملک کو وہ لوگ ہندواسٹیت بنا دینا چاہتے ہیں ، پھر آپ اس کے خلاف کیوں نہیں لکھتے۔ میں نے کہا کہ مجھے اس کے خلاف لکھنے کی ضرورت نہیں۔ تاریخ نے پہلے ہی اس کے خلاف مجھ سے زیادہ طاقتور انداز میں لکھ رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ میں نے کہا کہ ۱۹۴۷ سے پہلے مہاتما گاندھی نے جو تحریک چلائی ، اس میں ان کا کہنا تھا کہ آزادی کے بعد ہم بھارت میں رام راجیہ بنائیں گے۔ مگر ۱۹۴۷ میں جب بھارت آزاد ہوا تو یہاں رام راجیہ نہیں بن سکا بلکہ سیکولر راجیہ بنا۔ پھر آج جو لوگ ہندوراشٹر کی تحریک چلا رہے ہیں وہ کیسے اس میں کامیاب ہوں گے جبکہ وہ مہاتما گاندھی سے بہت چھوٹے لوگ ہیں۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے معاملات میں ہمیشہ تاریخی قوتوں کو دیکھنا چاہئے نہ کہ کسی شخص یا کچھ اشخاص کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو۔ الفاظ منہ سے نکل کر ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ کسی ملک کے نظام کو جو چیز بناتی ہے وہ تاریخ کی قوتیں ہیں نہ کہ نعرے اور الفاظ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader