آغازِ کلام
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
سولھویں صدی سے اٹھارویں صدی تک خاص طور پر مسلمانوں کے سیاسی دبدبہ کا زمانہ رہا ہے۔ اس زمانہ میں عالمی سطح پر مسلمانوں کی حسب ذیل سلطنتیں قائم تھیں : ترکی میں سنی عثمانیوں کی سلطنت ۱۹۱۹ء - ۱۹۲۳ء ہندوستان میں مغلوں کی سلطنت ۱۵۲۶ء - ۱۸۵۸ء ایران میں شیعہ صفویوں کی سلطنت ۱۵۰۰ء - ۱۷۲۲ء عجیب بات ہے کہ یہی تین سو سال کا زمانہ وہ زمانہ ہے جب کہ یورپ میں جدید سائنس پروان چڑھی۔ مگر مذکورہ مسلم سلطنتوں میں سے کسی ایک سلطنت نے اس کو اہمیت نہ دی۔ اس وقت کے مسلمان سیاسی اقتدار کو سب کچھ سمجھتے رہے۔ حالاں کہ زمانہ تیزی سے اس دور کی طرف جارہا تھا جب کہ علمی اقتدار سب سے بڑی چیز بن جائے۔ ۱۲ جون ۱۹۹۳ ہندوستان میں جو مسلمان آئے وہ چار بڑی نسلوں سے تعلق رکھتے تھے ۔ عرب، ترک، ایرانی، افغانی۔ ان لوگوں نے یہاں حکومتیں قائم کیں۔ انگریزوں نے جو تاریخیں لکھیں، ان میں اپنی آمد کو تو انگریزوں آمد کہا، عیسائی کی آمد نہیں کہا۔ مگر مذکورہ نسلوں کی آمد کو انھوں نے "مسلمان کی آمد" کہا۔ اس سے ہندو مسلم نفرت پیدا ہوئی۔ اگر انگریزوں ہی کی طرح ان مسلمانوں کی آمد کو عربوں کی آمد، ترکوں کی آمد، ایرانیوں کی آمد اور افغانیوں کی آمد کہا جاتا تو یہاں مسلمانوں کے خلاف یا اسلام کے خلاف نفرت پیدا نہ ہوتی۔ ۱۳ جون ۱۹۹۳ ڈاکٹر جلیل احمد خاں ملاقات کے لئے آئے۔ وہ رڑکی کے رہنے والے ہیں۔ آجکل وہ باخبت کے پبلک ہیلتھ سنٹر میں میڈیکل آفیسر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جب اجودھیا میں بابری مسجد ڈھائی گئی تو رڑکی میں تنافر پیدا ہوا۔ پولیس نے شہر میں دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی۔ اس کے باوجود بعض مقامی مسلم لیڈروں نے جوش دلایا۔ پولیس والوں نے مسلمانوں کو منع کیا کہ شہر میں دفعہ ۱۴۴ نافذ ہے۔ آپ لوگ جلوس نہ نکالیں، مگر مسلمان نہیں مانے۔ انھوں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader