آغازِ کلام
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
8 دسمبر کو جلوس نکال دیا۔ نعرہ لگاتاہوا یہ جلوس جب بازار میں پہنچا تو کچھ نوجوان تشدد پر اتر آئے۔ کسی نے ہندو حلوائی کی دودھ کی کڑھائی الٹ دی۔ کسی نے اور کچھ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس نے لاٹھی چارج کر دیا۔ بہت سے لوگ بری طرح زخمی ہوئے۔ ۱۰۵ مسلمان گرفتار کئے گئے۔ جن پر مقدمہ چل رہا ہے۔ مگر عین انھیں حالات میں رڑکی کے مچھی محلہ میں کچھ نہیں ہوا۔ یہ خالص مسلم محلہ ہے اور اس کے سرے پر گیٹ لگا ہوا ہے۔ دفعہ ۱۴۴ لگی تو مچھی محلہ کے مسلمانوں نے پولیس سے کہہ دیا کہ ہمارے محلہ کا کوئی آدمي جلوس میں شامل نہیں ہوگا۔ اگر ہمارا کوئی نوجوان آپ کو گیٹ کے باہر ملے تو آپ اس کو گولی مار سکتے ہیں۔ مگر آپ لوگ گیٹ کے باہر رہیں، گیٹ کے اندر داخل نہ ہوں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پولیس مچھی محلہ کے اندر داخل نہیں ہوئی۔ اندر اندر مسلمانوں کی ساری سرگرمیاں جاری رہیں۔ محلہ کی مسجد میں باقاعدہ نماز ہوتی رہی۔ محلہ کے اندر مکمل امن رہا۔ پولیس نے محلہ کے لوگوں پر کسی بھی قسم کا ظلم نہیں کیا۔ بلکہ ان کی روش پر ان کو مبارکباد دی۔ ۱۲ جون ۱۹۹۳ ماہنامہ الفرقان، لکھنو کے شمارہ مئی ۱۹۹۳ میں سورش کاشمیری کا ایک مضمون سید عطا اللہ شاہ بخاری کے بارہ میں چھپا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ شاہ صاحب کو انگریزوں سے سخت نفرت تھی۔ فرنگ دشمنی اور یورپ بیزاری میں وہ آخری حد تک پہنچے ہوئے تھے کبھی کبھی 'لعنت بر پدر فرنگ کا نعرہ اس زور سے بلند کرتے کہ درود دیوار گونج اٹھتے۔ (صفحہ ۴۷) یہی اس زمانہ کے علماء کا عام حال تھا۔ ان کے دلوں میں انگریزوں کے لئے نفرت کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ دوسری طرف مسلم لیگ کے دو قومی نظریہ سے متاثر مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ یہود اور ہنود اسلام کے ازلی دشمن ہیں۔ یہی وہ منفی نفسیات تھی جس کی بنا پر مسلمانوں میں دعوت کا ذہن نہیں ابھرا۔ دعوت کا تقاضا ہے کہ آپ کے دل میں مدعو کے لئے محبت اور خیرخواہی کے جذبات ہوں۔ انگریزوں کے لئے آپ کی زبان سے رحمت بر افرنگ کے الفاظ نکلیں اور ہنود کو آپ اپنے دوست کی نظر سے دیکھتے ہوں۔ جن لوگوں سے آپ پیشگی طور پر متنفر ہو جائیں ان کو آپ دین رحمت کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader