Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

مخاطب بنانے کے لئے بے چین نہیں ہو سکتے۔ بیرونی انگریز اور ملکی ہنود سے اس نفرت کا اصل سبب سیاست تھا۔ یہی یہ بات ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے ملک میں آزادی اور تقسیم ہند کے نام سے جو دو تحریکیں اٹھیں وہ دونوں کی دونوں غیر اسلامی تحریکیں تھیں۔ اسلامی تحریک وہ ہے جو اپنے متاثرین کے اندر مطلوب نفسیات کو ابھارے۔ جو تحریک لوگوں میں اسلام کی مخالف نفسیات پیدا کرے وہ صحیح اسلامی تحریک نہیں ہو سکتی۔ ۱۵ جون ۱۹۹۳ پہلے زمانہ میں زیادہ بڑی ترقی کا حوصلہ صرف کچھ افراد کر سکتے تھے۔ اس لئے پہلے سے زیادہ بڑی خرابی بھی صرف کچھ افراد کے اندر پیدا ہوتی تھی۔ بیشتر لوگ اپنے حال پر قانع رہ کر امن زندگی گزارتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں صنعتی انقلاب کے بعد پیدا شدہ حالات نے اعلیٰ ترقی کو ہر آدمی کا خواب بنا دیا۔ اب ہر آدمی اعلیٰ ترقی کی طرف دوڑنے لگا۔ اس لئے خرابیاں مقدار اور نوعیت دونوں کے اعتبار سے بہت بڑھ گئیں۔ پہلے اگر وہ ایک فیصد تھیں تو اب صد فیصد ہوگئیں۔ موجودہ زمانہ میں ڈیمو کریسی کی وجہ سے ہر شخص یہ سمجھنے لگا کہ میں اقتدار تک پہنچ سکتا ہوں۔ اس کی وجہ سے عمومی پولیٹیکل کرپشن پیدا ہوا۔ جدید ذرائع معاش کی وجہ سے ہر شخص کو دکھائی دینے لگا کہ وہ بڑا دولت مند بن سکتا ہے۔ اس بنا پر اقتصادی ایکسپلائٹیشن عمومی فتنے کی حیثیت اختیار کر گیا۔ جدید پریس کا دور آنے کی وجہ سے ہر شخص محسوس کرنے لگا کہ وہ بھی شہرت کا درجہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس طرح ایسا ہوا کہ کام کرنے کے بجائے شہرت حاصل کرنا بذات خود لوگوں کا مطلوب و مقصود بن گیا۔ ایسے دور میں اگر کوئی شخص فتنے میں پڑنے سے بچ جائے تو وہ فانی بدایونی کے اس شعر کا مصداق ہوگا : فریب جلوہ اور کتنا مکمل اسے معاذ اللہ بڑی مشکل سے دل کو بزم عالم سے اٹھایا پایا ۱۹۳۵ - ۱۹۵۵ کے درمیان میں اعظم گڑھ میں تھا۔ وہاں اکثریت ڈی اے وی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page