آغازِ کلام
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
کالج کا نام سنتا تھا۔ جس کے ہندو پرنسپل ہمارے گھر باقی منزل کے عین سامنے سڑک کے دوسری طرف رہتے تھے۔ مگر ڈی اے وی کا مطلب آج سمجھ میں آیا جب کہ میں نے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس (۱۶ جون) میں صفحہ ۱۲ پر ایک رپورٹ پڑھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ڈی اے وی (Dayanand Anglo-Vedic) موومنٹ کا مخفف ہے۔ یہ تعلیمی تحریک مہاتما ہنس راج نے چلائی جو پنجاب کے ایک گاؤں بجواری میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے ۲۹ سال تک کسی تنخواہ یا معاوضہ کے بغیر یہ خدمت کی۔ ۱۸۸۳ میں انھوں نے لاہور میں پہلا ڈی اے وی اسکول کھولا جس کے وہ خود ہیڈ ماسٹر تھے۔ وہ ترقی کر کے ۱۸۸۶ میں ڈی اے وی کالج بن گیا۔ اس طرح سارے ملک میں اس تحریک کے تحت ۵۵۰ تعلیمی ادارے قائم ہوئے جو اب تک چل رہے ہیں۔ برٹش دور میں ہندوؤں میں اس طرح کے بہت سے مصلح پیدا ہوئے جنھوں نے کثیر تعداد میں تعلیمی ادارے قائم کئے ۔ اور ہر طرح کی کوشش کے ذریعہ ہندوؤں کو تعلیم میں آگے بڑھایا۔ موجودہ ہندوستان میں ہندو ہر میدان میں مسلمانوں سے آگے ہیں۔ اس کی وجہ ان کا یہی تعلیمی تقدم ہے نہ کسی قسم کا تعصب۔ (جون ۱۹۹۳ء آج کل ہر آدمی یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ مسلمانوں میں قیادت کا فقدان ہے۔ مگر مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں نتیجہ قیادت کا فقدان ہے۔ نتیجہ قیادت کے فقدان کو لوگ خود قیادت کے فقدان پر محمول کر رہے ہیں۔ ۱۹۳۰ سے پہلے اور ۱۹۴۲ کے بعد مسلمانوں میں بہت بڑے بڑے قائدین ابھرے۔ لاکھوں اور کروڑوں مسلمانوں نے ان کا ساتھ دیا۔ انھوں نے وقتی طور پر بڑے بڑے ہنگامے کھڑے کئے۔ مگر جہاں تک نتیجہ کا تعلق ہے، ان قیاس وقتی ہنگاموں کا کچھ بھی فائدہ ملت کو نہیں ملا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اپنی جذباتیت اور عجلت پسندی کی وجہ سے صرف ان قائدین کے پیچھے دوڑتے رہے جو بڑے بڑے الفاظ بولتے ہوں۔ حالاں کہ ایسے وقت قائدین کی قیادت قوم کو گڑھے میں گرانے کے سوا کوئی اور کارنامہ انجام نہیں دیتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader