آغازِ کلام
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۹۴۷ء سے پہلے بھی قوم کے اندر ایسے لوگ موجود تھے اور آج بھی موجود ہیں جو انھیں سنجیدہ رہنمائی دیتے ہوں مگر غلط قومی مزاج کی بنا پر ایسے لوگوں کو عمومی مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ آج ملت کا اصل مسئلہ فقدان مزاج ہے نہ کہ فقدان قیادت۔ لوگوں کے اندر صالح مزاج نہیں، اس لئے ان کے درمیان کوئی صالح قیادت بھی نہیں ابھرتی۔ ۱۸ جون ۱۹۹۲ لارڈ ایکٹن (۱۹۰۲ ۔ ۱۸۳۴) ایک مغربی مفکر ہے۔ وہ جرمنی میں پیدا ہوا۔ اور پھر انگلینڈ میں سکونت اختیار کرلی۔ اس کا قول ہے کہ اقتدار بگاڑتا ہے، اور کامل اقتدار تو بالکل ہی بگاڑ دیتا ہے : Power corrupts, and absolute power corrupts absolutely. جب تک اقتدار بگاڑتا تھا تو کسی سوسائٹی میں چند ہی لوگ بگڑتے تھے۔ مگر کم از کم ہندوستان میں معاملہ اس سے بہت آگے جا چکا ہے۔ یہاں ہر وہ شخص بگڑ جاتا ہے جو سیاست کے میدان میں داخل ہوتا ہے۔ اس طرح یہاں بگڑنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ ہندوستان کے لحاظ سے یہ کہنا درست ہوگا کہ سیاست بگاڑتی ہے اور ہندوستانی سیاست تو بالکل بگاڑ دیتی ہے : Politics corrupts, and Indian politics corrupts absolutely. ۱۹ جون ۱۹۹۳ قرآن میں ہے کہ اللہ نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ کیا وہ خیال کرتا ہے کہ کوئی اس کے اوپر قادر نہیں۔ (البلد ۴- ۵) اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مشقت میں پیدا کیا جانا ایک خاص مقصد کے لئے ہے۔ اور وہ مقصد یہ ہے کہ آدمی ذاتی تجربہ کے ذریعہ اس حقیقت کو جان سکے کہ کرتا در مطلق خدا کے مقابلہ میں وہ صرف عاجز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی اصل حقیقت ہے۔ معرفت کا پچاس فیصد تعلق اس بات سے ہے کہ آدمی اس حقیقت واقعہ کا ادراک کر سکے۔ مگر اس حقیقت کا ادراک خالص نظری سطح پر کسی انسان کے لئے بے حد مشکل بلکہ شاید نا ممکن ہے۔ اس لئے آدمی کو بار بار ایسی شکلات کا تجربہ کرایا جاتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader