Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے جس کے مقابلہ میں آدمی اپنے آپ کو بالکل بے بس کرے اور اس طرح وہ خود شناسی کے درجہ تک پہنچے۔ اس اعتبار سے انسان کو مشقت میں پیدا کرنا اس کے حق میں ایک رحمت ہے۔ کیوں کہ اگر ایسا نہ ہو تو آدمی ہمیشہ جھوٹے بھرم میں رہتا اور کبھی اپنی حیثیت واقعی کا ادراک نہ کر پاتا جبکہ اسی ادراک پر اس کی تمام ترقیوں کا دار و مدار ہے۔ ۲۰ مئی ۱۹۹۳ء لاہور کے روزنامہ نوائے وقت (جون ۱۹۹۳ء) کی ایک جلی سرخی یہ ہے : سعودی عرب نے اسرائیل سے کاروبار کرنے والی کمپنیوں کا بائیکاٹ ختم کر دیا۔ اس سرخی کے تحت جو خبر دی گئی ہے وہ یہ ہے : ریاض سعودی عرب نے اپنی غیر ملکی تجارتی کمپنیوں کا بائیکاٹ ختم کر دیا ہے جو اسرائیل کے ساتھ کاروبار کرتی ہیں۔ کویت اس سے پہلے ہی ایسی کمپنیوں کا بائیکاٹ ختم کر چکا ہے۔ وائس آف امریکہ کے مطابق امریکہ کے ایک یہودی رہنما ہنری لک بین نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے انھیں بتایا ہے کہ اس نے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ ختم کر دیا ہے جو اسرائیل کے ساتھ کاروبار کرتی ہیں۔ امریکن جیوش کانگریس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہنری لک بین نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ سعودی عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے ثانوی بائیکاٹ ایک سال پہلے ختم کر دیا تھا۔ امریکی یہودی رہنما گزشتہ برس سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل سے ملاقات کے لئے ایک وفد لے کر ریاض گئے تھے۔ یاد رہے کہ کویت نے گزشتہ ہفتہ اعلان کیا تھا کہ وہ اب ان کمپنیوں کو بلیک لسٹ نہیں کرے گا جو اسرائیل سے تجارت کرتی ہیں۔ ہندوستان کے علما اور رہنماؤں میں سے کسی نے اس فیصلے کے خلاف بیان نہیں دیا۔ ہندوستانی مسلمانوں کو ہندوؤں سے ہم آہنگی کا مشورہ دیا جائے تو یہ لوگ فوراً اعلان کرتے ہیں کہ یہ بزدلی ہے۔ مگر سعودی عرب اور کویت یہودی سے ہم آہنگی اختیار کریں تو اس کے خلاف بولنے کی ان کے اندر جرات نہیں۔ اسی دو عملی کا نام نفاق ہے۔ ہمارے تمام مسائل اسی تضاد کے پیدا کردہ ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page