Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

اب میری عمر زیادہ ہوگئی۔ کمزوری کے علاوہ طرح طرح کے جسمانی عارضے لاحق ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ میں نے سوچا کہ یہ جسمانی عارضے گویا ایک قسم کا سگنل ہیں، جو بتاتے ہیں کہ دنیا سے رخصت ہونے کا وقت قریب آگیا۔ بڑھاپے کی عمر کے قریب جب آدمی کو ضعف یا بیماری کا تجربہ ہو تو اس کو آہ و فرید نہیں کرنا چاہئے، بلکہ اس قسم کے تجربات کو چیتاونی کے مفہوم میں لینا چاہئے۔ آہ و فریاد کا کوئی فائدہ نہیں۔ لیکن اگر اس کو چیتاونی کے طور پر لیا جائے تو اس سے آدمی کا احساس جاگے گا، وہ آخرت کی تیاری میں زیادہ با ہوش طور پر لگ جائے گا۔ ۲۲ جون ۱۹۹۳ تبلیغی جماعت کے کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر بے حسی بہت زیادہ عام ہے، اس کا سبب کیا ہے، میں نے کہا کہ اس کا جواب سورہ الکہد کی آیت نمبر ۱۶ میں ہے۔ اس آیت میں قوموں کے بارہ میں ایک نظری قانون بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ طولِ امل کے بعد ان کے افراد کے اندر قساوت (بے حسی) آجاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا حل کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا حل یہ ہے کہ ان کی بے حسی توڑی جائے اور دوبارہ ان کے اندر زندہ ایمان پیدا کیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ان میں فکری انقلاب لایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ہم فضائل اعمال کے ذریعہ یہی کوشش کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ فضائل اعمال کا فکری انقلاب سے کوئی تعلق نہیں۔ فضائل اعمال کا طریقہ "اعمال" کے فضائل پر مبنی ہے نہ کہ "فکر" کے فضائل پر۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی کتاب میں اعمالِ ظاہری کے فضائل تو بیان کئے گئے ہیں مگر معرفت اور خشیت اور تدبر اور تقویٰ کے فضائل کا باب آپ کی کتاب میں موجود نہیں۔ ۲۳ جون ۱۹۹۳ ایک مسلمان تاجر جو تجارت کرتے ہیں۔ وہ مزید تجارتی مواقع کی تلاش میں دبئی گئے۔ ایک مہینہ قیام کے بعد پرسوں وہ وہاں سے واپس آئے ہیں۔ ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ دبئی میں بے پناہ تجارتی مواقع ہیں۔ وہاں فری زون ہے جس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page