Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

میں آپ ایک پیسہ ٹیکس دیئے بغیر بے روک ٹوک ہر قسم کی تجارت کر سکتے ہیں۔ دفتروں میں دھڑا دھڑ کام ہوتا ہے۔ وہاں کے تجارتی حلقے مجھے انتہائی کوآپریٹو نظر آئے۔ اب میں نے طے کیا ہے کہ دلی میں اپنا سارا اثاثہ فروخت کرکے دبئی چلا جاؤں اور وہیں بزنس کروں۔ میں نے کہا کہ انڈیا اور دبئی کے درمیان تجارتی مواقع کے اعتبار سے جو فرق آپ نے بتایا وہ بالکل درست ہے مگر دونوں ملکوں میں اس کے علاوہ ایک اور فرق بھی ہے، وہ یہ کہ دبئی میں دنیوی خوشحالی کا ٹکٹ ملتا ہے اور انڈیا میں آخرت کی جنت کا ٹکٹ۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ انڈیا میں مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ ہندو ان کے ساتھ تعصب کرتا ہے، ہندو ان کے ساتھ زیادتی کرتا ہے۔ ہندو انہیں ظلم اور فساد کا شکار بتاتا ہے۔ مگر اسلامی نقطہ نظر سے دیکھتے تو یہ مسلمانوں کے لئے جنت کا ٹکٹ ہے۔ ہندو آپ کے لئے مدعو کا درجہ رکھتے ہیں۔ اور مدعو کی زیادتیوں پر صبر کرنا بلا شبہ جنت کا سب سے زیادہ یقینی ٹکٹ ہے۔ ۲۲ جون ۱۹۹۳ء مسٹر عبد الغنی ڈار کشمیری (۳۵ سال) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ کشمیر کی تحریک آزادی کے علمداروں نے نومبر ۱۹۸۹ میں سرینگر میں دو بم دھماکہ کیا۔ ایک کانی ہاؤس میں اور دوسرا سینما گھر میں۔ یہ تحریک کشمیر یت کا آغاز تھا۔ اس کے بعد انھوں نے کوئی دھماکہ نہیں کیا۔ بلکہ پر امن مظاہرہ کا طریقہ اختیار کیا جو گاندھی جی کا طریقہ تھا۔ کشمیری لوگ بے شمار تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ اس کے بعد فروری ۱۹۸۹ میں جماعت اسلامی کشمیر نے جہاد کا نعرہ دیا۔ تقریباً دس ہزار نوجوان ٹرکوں میں بھر کر وہ سرحد پار پاکستانی علاقہ میں لے گئے۔ وہاں انھیں گوریلا وار کی ٹریننگ دی گئی ۔ اور پھر ہر نوجوان کو ایک ایک کلاشینکوف دے کر وادی میں بھیج دیا۔ ان تربیت یافتہ نوجوانوں نے مارچ ۱۹۸۹ میں تشدد کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کے جواب میں ہندوستانی فوج نے بہت بڑے پیمانے پر لوگوں کو مارنا شروع کر دیا۔ انھوں نے بتایا کہ میری ملاقات کشمیر میں ایک ہندو فوجی جنرل سے ہوئی۔ اس نے کہا کہ کشمیری عوام جب پر امن مظاہرہ کر رہے تھے تو ہمارے لئے ان پر گولی چلانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page