Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

فردی میں ہم لوگوں کی ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں کہا گیا کہ اگر یہی حالات رہے تو ہم کو چند مہینے میں کشمیر چھوڑ دینا پڑے گا۔ مگر مارچ ۱۹۸۹ میں جب کشمیریوں نے گن اٹھائی تو ہم بہت خوش ہوئے کہ اب انھوں نے ہماری جیت کو یقینی بنا دیا۔ انھوں نے بتایا کہ انڈیا کی موجودہ اسکیم یہ ہے کہ کشمیری مسلمانوں کو اتنا خوف زدہ کر دو کہ بڑی تعداد میں وہ کشمیر سے باہر چلے جائیں۔ اس کے بعد ہندوؤں کو لا کر وہاں بسانا شروع کر دیا جائے۔ کشمیر کے ہندو مہاجرین ساڑھے تین لاکھ ہیں۔ اس کے علاوہ تقریبا چار لاکھ اور کشمیری ہندو ہیں جو پہلے آکر انڈیا میں آباد ہو گئے۔ ان سب کو وہ وادی میں واپس لے جائیں گے، نیز کچھ اور ہندوؤں کو بھی۔ جب وہ دیکھیں گے کہ وادی میں پچاس فیصد سے زیادہ ہندو آبادی ہو گئی ہے تو وہ خود اعلان کر دیں گے کہ ریفرینڈم کر لو۔ ۲۵ جون ۱۹۹۳ حدیث خیر القرون عرفی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم کے مطابق قرون مشہود لہا بالخیر صرف تین ہیں ــــــــ عہد رسالت، عہد صحابہ، عہد تابعین۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض دینی چیزوں کے ساتھ جو غیر معمولی اعتبار چوتھے دور، تبع تابعین کے زمانہ میں شروع ہوا اور پھر بڑھتا گیا، وہ پہلے تین دوروں میں موجود نہ تھا۔ مثلاً فقہ اور حدیث۔ مذکورہ حدیث کو معیار ماننے کے بعد یہ کہنا صحیح ہوگا کہ امت کے لئے نمونہ صرف ابتدائی تین دور ہیں۔ ان تینوں زمانوں میں کسی چیز کے ساتھ جتنا کم یا زیادہ اعتبار کا ثبوت ملے، اتنا ہی کم یا زیادہ اعتبار اس کے ساتھ کیا جانا درست ہے۔ تبع تابعین کے زمانہ میں یا اس کے بعد کے زمانہ میں اس سے مختلف جو نمونے ملتے ہیں وہ انحراف دین کی مثالیں ہیں نہ کہ پیروی دین کی مثالیں۔ ۲۶ جون ۱۹۹۳ ریڈرس ڈائجسٹ (جون ۱۹۹۳) میں ایک مضمون چھپا ہے، اس میں کامیابی کا راستہ (route of success) کاراز بتایا گیا ہے۔ مضمون نگار کا کہنا ہے کہ آدمی کسی اعتبار سے طاقت ور ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ کئی پہلوؤں سے وہ بے طاقت بھی ہوتا ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page