آغازِ کلام
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
مضمون نگار نے یہ مشورہ دیا ہے کہ آدمی کو اپنی کمزوریوں کی اصلاح میں وقت ضائع کرنا نہیں چاہئے بلکہ اپنی طاقت کو عمل میں لاکر کامیابی حاصل کرنا چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کمزوری (Weakness) کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے اخلاقی کمزوری اور دوسری ہے نیچرل کمزوری۔ نیچرل کمزوری کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص پیدائشی اعتبار سے لٹریری صلاحیت رکھتا ہو مگر وہ تجارتی صلاحیت سے خالی ہو۔ ایسے آدمی کو تاجر بننے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے بلکہ لٹریری میدان میں اپنی صلاحیتوں کو لگانا چاہئے۔ دوسری کمزوری وہ ہے جس کو اخلاقی کمزوری کہا جاسکتا ہے مثلاً اشتعال کی باتوں پر اشتعال ہو جانا۔ اس قسم کی کمزوری کو دور کرنا بہت ضروری ہے۔ کیوں کہ ایسی کمزوری کے ساتھ آدمی کسی بھی میدان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ۲۷ جون ۱۹۹۳ء جاہلی دور کے ایک شاعر کا شعر ہے کہ اگر تم دوسروں کو نفع نہیں پہنچا سکتے تو تم ان کو نقصان پہنچاؤ، کیوں کہ جوارں مرد سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ یا تو نفع پہنچائے گا یا نقصان پہنچائے گا : اذا انت لم تنفع فضر فإنما یرجی الفتی کیما یضر وینفعا مولانا علی میاں نے ۱۹۶۷ء۔۱۹۶۶ کے الیکشن کے زمانہ میں فلسفہ "ضرر" دریافت کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان اس ملک میں ہند و حکمرانوں کو نقصان پہنچا کر اپنے لئے زندگی کا حق وصول کریں۔ اس کی عملی صورت انھوں نے یہ تجویز کی کہ مسلمان اپنے ووٹوں کو متحد کرکے حکمراں پارٹی (کانگریس) کو شکست دیں۔ اس طرح ملک کے حکمران ان کے بارہ میں محتاط ہو جائیں گے، اور ان کے حقوق کو صحیح طور پر ادا کرنے لگیں گے۔ یہ بلاشبہ ایک لغو نظریہ تھا۔ کیوں کہ قرآن میں نفع بخش بننے کی تلقین کی گئی ہے نہ کہ ضرر رساں بننے کی۔ مولانا موصوف کے اس نظریہ کا ماخذ مذکورہ جاہلی شعر ہو سکتا ہے مگر قرآن ہرگز اس کا ماخذ نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader