آغازِ کلام
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
اہلِ دین کی سب سے زیادہ بری حالت وہ ہے جب کہ ان کے یہاں دین کے نام پر سرگرمیاں جاری ہوں۔ مگر حقیقی دین ان کے درمیان سے غائب ہو گیا ہو۔ اس حالت کو ایک لفظ میں دینی انحراف کہا جا سکتا ہے۔ یہ دینی انحراف اس وقت پیش آتا ہے جب کہ دین میں فوکس (مرکز توجہ) کو بدل دیا جائے۔ مثلاً یہ کہ اساسات دین کے بجائے جزئیاتی مسائل پر زور دیا جانے لگے۔ اسی طرح روح دین کے بجائے ظواہر دین، حقیقت کے بجائے الفاظ ، فرد کے بجائے سسٹم ، روحانیت کے بجائے سیاست، آخرت کے بجائے دنیا، داخلی عمل کے بجائے خارجی دھوم، اصلاح خویش کے بجائے احتجاج غیر، زور اور تاکید کا موضوع بن جائیں۔ یہ وہی چیز ہے جس کو انگریزی میں (shift in emphasis) کہا جاتا ہے۔ یعنی اصل اہمیت والی چیز کو پس پشت ڈال دینا۔ اور جو چیز محض ضمنی حیثیت رکھتی ہے اس کو ساری اہمیت دے دینا۔ یہ حالت جس گروہ کی ہو جائے اس کے درمیان بظاہر دین دکھائی دے رہا ہوگا، مگر اصل دین اس کے یہاں سے غائب ہو چکا ہوگا۔ ۲۹ جون ۱۹۹۳ دہلی کے کچھ تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ایک تعلیمی سوسائٹی قائم کی ہے۔ اس کا نام فرینڈز آف ایجوکیشن (Friends of Education) ہے۔ اس سوسائٹی نے ملکی سطح پر مسلمانوں کی تعلیمی حالت کا سروے کرایا ہے۔ اس کی رپورٹ ٹائمس آف انڈیا (۲۹ جون ۱۹۹۳) میں چھپی ہے۔ اس سے معلوم ہوا ہے کہ ۱۹۹۳ میں مختلف ریاستوں اور اردو میڈیم اسکولوں میں دسویں اور بارہویں میں پانچ لاکھ طلبہ امتحان میں بیٹھے۔ ان میں سے تقریباً ۷۰ فیصد طلبہ فیل ہوگئے: Nearly 70 per cent of the five lakh students who took the class X and میں نے اخبار میں اس خبر کو پڑھا تو اتنا شدید تاثر ہوا کہ میرے دل میں اختلاج کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ ظاہر ہے کہ یہ طلبہ سب کے سب مسلمان تھے۔ میں نے سوچا کہ مسلمانوں کی تعلیمی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader