آغازِ کلام
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
حالت اتنی زیادہ گرگئی ہے کہ وہ اردو میڈیم اسکولوں میں بھی کامیاب نہیں ہوسکتے جہاں تمام ٹیچر اور پوری انتظامیہ مسلمانوں کی ہوتی ہے تو پھر وہ دوسرے اسکولوں میں اور دوسرے تعلیمی شعبوں میں کس طرح کامیابی حاصل کرسکیں گے۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے ہر روز مسلمانوں کے خلاف غیر مسلموں کے فساد کا رونا روتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی تعلیمی گراوٹ تمام فسادوں سے زیادہ بڑا فساد ہے۔ حتیٰ کہ یہی تعلیمی پستی تمام فسادوں کی اصل جڑ ہے۔ ۳۰ جون ۱۹۹۳ قومی آواز (۳۰ جون) میں ایک دلچسپ قصہ چھپا ہے۔ ایک ہندو پروڈیوسر نے ایک پکچر بنائی۔ اس کی کہانی نکاح اور طلاق پر مبنی تھی۔ چنانچہ اس کا نام ” طلاق طلاق طلاق“ رکھا گیا تھا۔ جس زمانہ میں وہ مسلم سینما ہاؤس میں دکھائی جارہی تھی، ایک مسلمان عورت نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ فلاں ہال میں کون سی پکچر چل رہی ہے۔ مرد نے کہا ” طلاق طلاق طلاق“ مقامی حنفی مولوی کو پتہ چلا تو اس نے فتویٰ دے دیا کہ دونوں میں طلاق پڑ گئی۔ اور اب وہ عورت اس کے شوہر کے لئے حرام ہے۔ اس کے بعد پروڈیوسر نے مسلم کا نام بدل کر ” نکاح“ رکھ دیا۔ تعلیقات ثلاثہ کے معاملہ میں احناف بلاشبہ غلطی پر ہیں۔ قرآن کے مطابق، طلاق تین مہینہ میں مکمل ہوتی ہے۔ اگر کسی شخص نے پہلی ہی مجلس میں طلاق طلاق طلاق کہہ دیا تو رسول اللہ اور ابو بکر صدیقؓ نے پھر بھی اس کو ایک طلاق قرار دیا۔ عمر فاروقؓ کے عہد خلافت میں بھی ابتداً اسی پر عمل رہا۔ اس کے بعد بعض اشخاص کے تین طلاق کو تین قرار دیتے ہوئے آپ نے علیحدگی کرادی۔ تاہم گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو حضرت عمر کا یہ فعل محض ایک ایگزیکٹیو حکم تھا، وہ کوئی شرعی مسئلہ نہ تھا۔ چنانچہ اس کے باوجود تینوں فقہی مکاتب نے اس کی بنا پر شرعی مسئلہ کو نہیں بدلا۔ مگر حنفی فقہ کا ایک مخصوص مزاج ہے۔ اس میں نیت سے زیادہ ظہارم کو اہمیت دیدی گئی ہے۔ اپنے اس مزاج کی بنا پراحناف نے تین طلاق کو تین طلاق قرار دے دیا۔ یہ کام انہوں نے اصلاً اپنے مزاج کی بنا پر کیا تھا۔ مگر حضرت عمرؓ کے مذکورہ استثنائی فعل میں جوں کہ انہیں اپنی تائید مل رہی تھی، اسی لئے انھوں نے اس کو بطور دلیل لے لیا۔ حالاں کہ حضرت عمر کا فعل یقینی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader