Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

آسیہ بنت مزاحم کی یہ دعا جو قرآن میں نقل کی گئی، وہ محض ایک فرد کی دعا نہیں ہے بلکہ وہ ایک نمائندہ دعا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کو یہی دعا کرنا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو اسی مرحلے سے گزرنا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو قربانی کی سطح پر جا کر یہ کہنا ہے کہ... خدایا! میں نے تیرے دین کی خاطر دنیا کی چیزوں کو چھوڑا، تا کہ تو اگلے مرحلہ حیات میں اپنا زیادہ بہتر انعام مجھے عطا فرمائے۔ یہی وہ عورت اور مرد ہیں جن کی بابت یوم الحساب (Day of کے موقع پر یہ اعلان کیا جائے گا کہ انہوں نے خدا کی خاطر دنیا کی عارضی Judgement) جنت کو چھوڑ دیا تھا، اب ان کو آخرت کی زیادہ اعلیٰ جنت میں داخل کر دو تا کہ یہاں وہ ابدی طور پر خوشیوں اور راحتوں کی زندگی گزاریں اور کبھی اکتاہٹ کے احساس کا شکار نہ ہوں۔ اسمِ اعظم ایک زندہ تجربہ اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنا، خدا کی توفیق سے ہوتا ہے۔ یہ توفیق صرف اس انسان کو ملتی ہے جو اسم اعظم کی دعا سے پہلے اسم اعظم کی كيفیات میں جی رہا ہو۔ اسم اعظم کے ساتھ دعا کا معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں۔ وہ دراصل 'الانا الترشح بما فيه کا معاملہ ہے، یعنی ایک انسان جو حق کا متلاشی تھا، پھر اس کو خدا کی صورت میں حق مل گیا اور اس کا وہ حال ہوا۔ جس کی تصویر قرآن میں اس طرح بیان کی گئی ہے: او من کان میتا فاحیناہ ، وجعلنا له نورا يمشى به فی الناس ۔ یعنی وہ شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اس کو زندگی دی اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے (الانعام: 123) ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ذکر کثیر (الاحزاب: 41) میں جینے لگتا ہے، یعنی ہر وقت خدا کو یاد کرنا، ہر وقت خدا کے بارے میں سوچنا، ہر لمحہ خدا کی تجلیاجت کا تجربہ کرنا۔ ایسا انسان گویا کہ اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنے کے لئے ایک تیار ذہن (prepared mind) ہوتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page