دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ جب بھی کوئی خاص موقع اس کی زندگی میں پیش آتا ہے تو اس کے اندر چھپے ہوئے ربانی جذبات ایک طوفان بن کر ابِل پڑتے ہیں۔ اس وقت وہ مخصوص قسم کے الہامی الفاظ میں خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ ایک تیار ذہن سے نکلنے والی اسی قسم کی الہامی دعا کا نام اسم اعظم کے ساتھ خدا کو پکارنا ہے۔ ایک صالح خاتون کا واقعہ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم خفیہ طور پر حضرت موسی کے دین پر ایمان لائی تھی۔ جب فرعون کو اس کا علم ہوا تو وہ بہت غصہ ہوا اور اس کے قتل کا فیصلہ صادر کر دیا۔ اس وقت آسیہ کی زبان سے ایک دعا نکلی جو قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے: رب ابن لى عندك بيتا فى الجنه، ونجنى من فرعون و عمله، ونجنى من القوم الظالمین۔ یعنی اے میرے رب! میرے لئے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھ کو فرعون اور اس کے عمل سے بچالے اور مجھ کو ظالم قوم سے نجات دے (التحریم: 11) یہ دعا ایک ایسی دعا ہے جسکے اندر اسمِ اعظم کی روح پوری طرح موجود ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ آسیہ نے جب یہ دعا کی تو اس وقت موت سے پہلے اسکو یہ تجربہ ہوا کہ فرشتوں نے اسکو آخرت کی دنیا میں ملنے والا جنتی مکان اسکو دکھادیا (القرطبی، جلد 18، صفحہ 203)۔ یہ بات یقینی ہے کہ آسیہ کی زبان سے یہ دعا اچانک یا اتفاقاً نہیں نکلی، بلکہ وہ اس کی پچھلی زندگی کے دوران پیش آنے والے تجربات کا نتیجہ تھی۔ اس دعا سے پہلے وہ ایک تیار شخصیت بن چکی تھی۔ وہ پہلے ہی سے ذکر اور دعا کے مخصوص لمحات میں جی رہی تھیں۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ جب فرعون کی سفاکی کا معاملہ پیش آیا تو اس کی زبان سے فطری طور پر مذکورہ قسم کے ربانی الفاظ نکل پڑے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader