دومثايل
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
ماحول میں جیتے ہیں، لیکن قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک دنیا میں مذہبی جبر (religious persecution) کا نظام رائج تھا۔ یہی وہ پس منظر تھا جس میں فرعون نے آسیہ کے لئے قتل کا حکم دے دیا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت آسیہ کی زبان سے یہ دعا نکلی: رب بن لی عندک بیتا فی الجنة۔ یعنی اے میرے رب! اے اس نے ماں میرے لئے جنت میں اک گھر بنادے (التحریم:11) آسیہ کی اس دعا کو اس کے پس منظر کی روشنی میں دیکھیے تو گویا کہ آسیہ نے یہ کہا۔۔۔ اے میرے رب! میں نے تیرے لئے دنیا میں بادشاہ کے محل کو چھوڑ دیا، اب تو آخرت کی ابدی دنیا میں میرے لئے اپنے پڑوس میں ایک محل بنادے: I sacrifice my seat in the palace of worldly king, O Lord, give me a better seat in your neighbourhood in the world hereafter. آسیہ بنت مزاحم کی اس دعا کے متعلق علما نے درست طور پر کہا ہے: "ما احسن ھذا الکلام"۔ یعنی کتنی اچھی ہے یہ دعا (صفوۃ التفاسیر، جلد 3 ، صفحہ 412) یہ دعا بلا شبہ ایک تخلیقی دعا تھی۔ آسیہ بنت مزاحم کے سامنے دو چیزوں کے درمیان انتخاب تھا۔ محل کی زندگی کی خاطر فرعون کے مشرکانہ مذہب پر قائم رہنا، یا خدا کے موحدانہ مذہب کی خاطر سفاکانہ قتل کا سامنا کرنا۔ آسیہ کی معرفت اس وقت اتنی زیادہ گہری ہو چکی تھی کہ اس کو یہ فیصلہ کرتے ہوئے ایک لمحے کی دیر نہیں لگی کہ مجھے حق کی خاطر دنیا کے وقتی محل کو چھوڑ دینا چاہئے اور خدا کی ابدی جنت کو اپنے لئے منتخب کر لینا چاہئے، خواہ اس انتخاب کی قیمت میں مجھے قتل کر دیا جائے یا سولی پر چڑھا دیا جائے۔ اس پورے پس منظر کی روشنی میں دیکھیئے تو آسیہ بنت مزاحم کی دعا بلا شبہ ایک سپرد دعا تھی اور وہ فوراً قبول ہو گئی۔ روایات میں آیا ہے کہ موت سے پہلے فرشتوں نے آسیہ کو جنت میں اس کے محل کا مشاہدہ کرایا۔ چنانچہ آسیہ نے اس حال میں جان دی کہ اس کے چہرے پر اطمینان کی خوشی صاف دکھائی دے رہی تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader