ایک تاریخی مثال
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک تاریخی مثال سلطان عبد الرحمن الناصر (وفات: 961 ء) اسپین (اندلس) کا ایک مسلم حکمران تھا۔ اس نے پچیس سال کی محنت سے قرطبہ کے پاس ایک شان دار محل بنایا۔ یہ محل چار میل لمبی اور تین میل چوڑی زمین میں واقع تھا۔ اس محل کا نام اس نے الز ہرارکھا۔ مگر غیر معمولی طور پر بڑا ہونے کی وجہ سے اس کو قصر الزہرا کے بجائے مدینۃ الزہرا کہا جانے لگا۔ سلطان عبد الرحمن الناصر کو عمارتوں کا بہت شوق تھا۔ اس نے الزہرا کے نام سے یہ شاہی بستی بسائی اور اس میں شان دار محل تعمیر کئے ۔ ان تعمیرات کے آخری دنوں میں سلطان اتنا مشغول رہا کہ مسلسل تین جمعہ میں وہ مسجد نہ پہنچ سکا۔ چوتھے جمعہ کو جب سلطان جامع مسجد پہنچا تو اس کی موجودگی میں قاضی منذر (وفات: 966ء) نے جو خطبہ دیا، اس میں نام لئے بغیر سلطان پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ قاضی منذر نے ایسی آیتیں پڑھیں جن میں دنیا میں عمارتیں کھڑی کرنے اور آخرت سے غافل ہو جانے پر وعیدیں تھیں۔ مثلاً... کیا تم ہر بلندی پر عبث یادگاریں تعمیر کرتے ہو اور شان دار محل بناتے ہو گویا کہ تم کو ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے۔ اور جب تم کسی پر حملہ کرتے ہو تو جبارانہ حملہ کرتے ہو۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو (الشعراء:131-128) تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کے رضا کی طلب پر رکھی ہو یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات گگر پر اٹھائی ہو اور وہ عمارت اس کو لے کر جہنم کی آگ میں جاگری۔ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ یہ عمارت جوانھوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں بے یقینی کی جڑ بنی رہے گی، یہاں تک کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ اور اللہ علیم اور حکیم ہے (التوبہ: 110-109) اسی طرح قاضی منذر نے اس مضمون کی بہت سی حدیثیں سنائیں اور ان کی تشریح کی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader