Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

ایک تاریخی مثال

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے خطبے میں اگر چہ انہوں نے سلطان کا نام نہیں لیا، مگر مسجد کا ہر نمازی سمجھ رہا تھا کہ ان سخت تنقیدوں کا مخاطب کون ہے اور وہ کس کے اوپر پڑ رہی ہیں۔ تنقید یوں بھی آدمی کے اوپر بہت سخت ہوتی ہے اور جب مجمع عام میں کسی پر تنقید کی جائے تو وہ اور بھی زیادہ ناگواری کا باعث ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ تنقید ایک ماتحت کی زبان سے اسے حاکم کے اوپر اور جب کوئی حاکم اسے ماتحت کو تنقید کرتے ہوئے سنتا ہے تو اس پر کہ کا سخت دورہ پڑتا ہے۔ بڑے بڑے شریف اور دین دار لوگ بھی اس وقت قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔ مگر سلطان نے حد درجہ ضبط سے کام لیا۔ اگر چہ سلطان پر اس تنقید کا بہت زیادہ اثر تھا مگر وہ مسجد میں کچھ نہ بولا اور نماز کے بعد خاموشی سے اٹھ کر باہر آ گیا۔ گھر پہنچ کر سلطان نے اپنے لڑکے الحکم سے کہا کہ آج قاضی منذر نے مجھ کو بہت تکلیف دی، اب اس میں نہ پڑ کر اس کی تلافی کرو کہ کبھی رجوع کرنے کی نوبت نہ آئے۔ بڑھو اس الحکم نے کہا: قاضی منذر کا امام ہونا یا نہ ہونا آپ کے اختیار میں ہے۔ آپ ان کو معزول کر دیجئے اور ان کی جگہ دوسرا کوئی امام مقرر کر دیجئے جو ایسی گستاخی نہ کرے۔ یہ سن کر سلطان غصہ میں آگیا۔ اس نے اپنے لڑکے کو ڈانٹ کر کہا: تمہارا برا ہو! ایک شخص جو ہدایت سے دور ہے اور راستہ سے بھٹکا ہوا ہے کیا اس کی خوشی کی خاطر قاضی منذر جیسے خوبیوں والے آدمی کو معزول کر دیا جائے گا۔ یہ بات کبھی نہیں ہوسکتی (هذا مالايكون)۔ مجھے ان کی باتوں سے چوٹ لگی اس لئے میں نے ان کے پیچھے جمعہ نہ پڑھنے کی قسم کھالی۔ میری خواہش ہے کہ اس قسم کے کفارہ کی کوئی صورت نکل آئے۔ تاہم قاضی منذر ہماری زندگی میں اور اپنی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں گے۔ (بل يصلى بالناس حياتنا و حياتة انشاء اللہ تعالیٰ) چنانچہ قاضی منذر بدستور جمعہ کی نماز پڑھاتے رہے۔ عبد الرحمن الناصر کے انتقال کے بعد اسکے لڑکے نے بھی ان کے مقام کو اسی طرح باقی رکھا۔ اوپر جس واقعہ کا ذکر ہوا، اس میں بہت بڑا سبق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page