دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی وہ مطلوب صفات کیا ہیں، جو اگر کسی کے اندر ہوں تو اس کو یہ خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے کہ وہ خدا سے ایسی دعا کر سکے جن کو اسمِ اعظم کے ساتھ کی جانے والی دعا کہا جاتا ہے۔ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا میں اگر پچاس فی صد اسمِ اعظم کا حصہ ہے تو پچاس فی صد خود دعا کرنے والے کی ربانی استعداد کا حصہ ہے۔ یہ ربانی استعداد قاضی منذر اور سلطان عبدالرحمن دونوں کے اندر کم وبیش موجود تھی، اس لئے ان کے ساتھ ایک عظیم دعا کی تاریخ شامل ہوگئی۔ حسب ذیل واقعہ اس معاملے میں ایک چشم کشا مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ بارش شروع ہوگئی سلطان عبد الرحمن الناصر کے زمانہ میں ایک بار اسپین میں قحط پڑا۔ بہت سخت حالات پیدا ہوگئے۔ سلطان نے اپنا ایک خاص آدمی قاضی منذر بن سعید کے پاس بھیجا اور درخواست کی کہ آپ استسقاء کی نماز پڑھائیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بارش برسائے۔ قاضی منذر نے سلطان کے قاصد سے پوچھا کہ سلطان نے میرے پاس دعا کا پیغام بھیجا ہے مگر وہ خود کیا کر رہے ہیں۔ قاصد نے کہا: آج سے زیادہ ہم نے کبھی ان کو اللہ سے ڈرنے والا نہیں پایا۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ حیران و پریشان ہیں۔ تنہائی میں پڑے ہوئے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ وہ مٹی کے فرش پر سجدے میں گرے ہوئے تھے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر رہے تھے اور اللہ سے کہہ رہے تھے: خدایا میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، کیا تو میرے گناہوں کی وجہ سے لوگوں کو عذاب دے گا، حالاں کہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (هذه ناصیتی بیدک، اتراک تعذب بی الرعیة وانت ارحم الراحمین) یہ سن کر قاضی منذر کے چہرے پر اطمینان ظاہر ہو گیا۔ انہوں نے قاصد سے کہا: اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader