Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتھ بارش لے کر واپس جاؤ۔ اب ضرور بارش ہوگی۔ کیوں کہ زمین کا حاکم جب تضرع کرتا ہے تو آسمان کا حاکم ضرور رحم فرماتا ہے ( اذا خشع جبار الارض فقد رحم جبار السماء) چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ قاصد واپس ہو کر گھر پہنچا تھا کہ بارش شروع ہوگئی۔ (الكامل في التاريخ جلد 8، صفحه 675) ۔ زمین پر خشک سالی اس لئے آتی ہے، تاکہ آنکھوں کی خشک سالی ختم ہو۔ آسمان پر بادل اس لئے گرجتے ہیں، تا کہ لوگوں کے دل میں خدا کے خوف سے دہلیں۔ گرمی کی شدت اس لئے ہوتی ہے، تا کہ لوگ جہنم کی آگ کو یاد کر کے تڑپ اٹھیں۔ اس طرح کے واقعات کا نہایت گہرا تعلق، اسماء حسنیٰ اور اسم اعظم کے معاملے سے ہے۔ یہی وہ واقعات ہیں جو انسان کے اندر ربانی کیفیات کی پرورش کرتے ہیں اور جس سینے کے اندر ربانی کیفیات کا یہ چشمہ جاری ہو جائے وہی وہ انسان ہے بس کو اسماء حسنی کی معرفت ہوتی ہے اور اسی کو یہ توفیق ملتی ہے کہ وہ اسمِ اعظم کے ساتھ خدا وند عالم کو پکارے اور اس کی پکار ضرور سنی جائے۔ ذاتی تجربہ خدا کے فضل سے مجھ کو اس قسم کے تجربے بار بار پیش آئے ہیں۔ 30 دسمبر 2006 ء کو میں اپنی ٹیم (سی پی ایس) کے کچھ افراد کے ساتھ نئی دہلی کے لودھی گارڈن میں گیا۔ یہ گویا کہ ہماری اسپر بچول آؤٹنگ (spiritual outing) تھی۔ اس موقع پر میرے دل سے ایک دعا نکلی، جو میری فہم کے مطابق اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کی ایک مثال ہے۔ جب ہم لوگ لودھی گارڈن کے اندر پہنچ گئے تو میں نے اپنی ٹیم کے افراد سے پوچھا کہ آپ لوگ جب یہاں پہنچے تو آپ کا پہلا احساس کیا تھا۔ لوگوں نے مختلف انداز سے اپنے اپنے تجربے بتائے۔ پھر میں نے کہا کہ جب میں اس خوبصورت گارڈن کے اندر داخل ہوا تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page