دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ میں جنت کو دور سے دیکھ رہا ہوں۔ یہ خوبصورت گارڈن میرے لئے جنت کا ایک بعید تعارف بن گیا۔ میں نے اشک بار آنسوؤں کے ساتھ کہا کہ خدایا، تو نے مجھے ناقص جنت میں پہنچا دیا، اب تو اپنی رحمت سے مجھے کامل جنت میں بھی داخل کر دے۔ میں نے کہا کہ خدایا، میں اور میرے ساتھی، پوری انسانی تاریخ میں جنت کیلئے سب سے زیادہ غیر مستحق لوگ (least (deserving candidates) ہیں۔ اگر تو ہمارے کامل عدم استحقاق کے باوجود ہم کو اپنی جنت میں داخل کر دے تو یہ واقعہ تیری شانِ رحمت کے ایک نئے اظہار کے ہم معنی ہوگا۔ سارے زمین اور آسمان اور تمام فرشتے یہ دیکھ کر حیران ہو جائیں گے کہ خدا کی رحمتوں کا سمندر اتنا وسیع تھا کہ ہمارے جیسے آخری حد تک غیر مستحق افراد بھی تیری رحمتِ بے پایاں کے فیض سے محروم نہ رہے میری رحمتِ بے پایاں کی وسعت تھی کہ وہ تاریخ کے ان ناہل ترین افراد تک کا احاطہ کر رہی تھی۔ لقد أوتيت سؤلك يا موسىٰ غالباً 1962ء کی بات ہے۔ مجھے اعظم گڑھ کے ایک قصبہ (آن جان شہید) کے ایک اجتماع میں شرکت کا موقع ملا۔ اس اجتماع میں مسلم حضرات شریک تھے۔ مجھے پیشگی طور پر یہ معلوم نہ تھا کہ مجھ کو اس اجتماع میں خطاب کرنا ہے۔ کچھ لوگوں نے اچانک مجھے اسٹیج پر لے جا کر کھڑا کر دیا۔ میرے لئے یہ ایک مجبورانہ خطاب کا معاملہ تھا۔ یہ غالباً پہلا موقع تھا جب کہ مجھے خطاب کے معاملے میں کامل عجز کا تجربہ ہوا۔ اس سے پہلے میں نے بار بار اجتماعات میں خطاب کیا تھا، مگر یہ تمام خطابات تحریری مقالے کی صورت میں تھے۔ مجھے پیشگی طور پر پروگرام کا علم ہوتا تھا اور میں مقالہ لکھ کر اس کو وہاں پڑھ دیتا تھا۔ مگر اس بار ایسی صورت پیش آئی کہ مجھے لازمی طور پر بولنا بھی تھا اور کسی پیشگی تیاری کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader