Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

لقد أوتيت سؤلك يا موسىٰ

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

بغیر زبانی طور پر خطاب کرنا تھا۔ اس وقت اچانک میرے اندر وہ ذہنی بھونچال کی کیفیت پیدا ہوئی جس کو نفسیاتی اصطلاح میں برین اسٹارمنگ (brain storming) کہا جاتا ہے۔ اس وقت میرے لئے کسی آزادانہ انتخاب کا موقع نہ تھا۔ میں نے خدا کو یاد کیا اور دیوانگی کے عالم میں اچانک بولنا شروع کر دیا۔ حاضرین کے سامنے مائک پر بولتے ہوئے میں نے کہا کہ ..... قرآن میں پیغمبروں کے قصے بتائے گئے ہیں ، لیکن یہ تاریخی کہانی کے طور پر نہیں ، بلکہ وہ ہمارے حال کے لئے ایک زندہ سبق کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اسی میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ خدا نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ مصر کے جابر بادشاہ کے دربار میں جائیں اور وہاں اس کے سامنے توحید کی دعوت پیش کریں ۔ حضرت موسیٰ نے کہا کہ : یضیق صدری ولا ينطق لسانی ۔ خدایا ، میرا سینہ تنگ ہورہا ہے اور میری زبان چلتی ہیں۔ (الشعراء: 13)۔ پھر انہوں نے قادرِ مطلق خدا کی توفیق سے یہ دعا کی کہ: رب اشرح لی صدری، ویسر لی امری، احلل عقدۃ من لسانی، یفقھوا قولی (اے میرے رب! میری لئے میرا سینہ کھول دے اور میرے لئے میر معاملے کو آسان کردے۔ اور تو میرے زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ لوگ میری بات کو سمجھیں (طٰہٰ: 28-25) میں نے کہا کہ حضرت موسیٰ نے جب اس طرح خدائے سمیع و بصیر کو پکارا تو ان کی دعا سیدھے عرش الٰہی تک پہنچ گئی اور وہاں سے آواز آئی: لقد اوتیت سولک یا موسیٰ۔ یعنی اے موسیٰ! تم نے جو سوال کیا، وہ تم کو دے دیا گیا (طٰہٰ: 36) اس کے بعد میں نے دیوانگی کے عالم میں کہا کہ یہ واقعہ کوئی ماضی کی سرگزشت نہیں، یہ واقعہ آج بھی اسی طرح زندہ ہے، جس طرح خدائے حیّ و قیوم زندہ موجود ہے۔ آج بھی اگر کوئی خدا کا بندہ خدا کو پکارے اور کہے کہ خدایا! میرا سینہ تنگ ہورہا ہے اور میری زبان چلتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page