لقد أوتيت سؤلك يا موسىٰ
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں تو آج بھی اس کی یہ آواز خدائے سمیع و بصیر تک پہنچے گی اور وہاں سے آواز آئے گی کہ اے میرے بندے، تم نے جو سوال کیا وہ تم کو دے دیا گیا۔ میں یہ کہہ رہا تھا اور میری آنکھ سے آنسو نہ تھمنے والے مینہ کی طرح برس رہے تھے۔ اس کے بعد میں نے بے اختیارانہ انداز میں بولنا شروع کیا اور مسلسل بولتا رہا۔ یہ واقعہ میرے لئے اس معائنے میں ایک بریک تھرو (breakthrough) کی مانند تھا۔ اس کے بعد میں نے تقریری مقالہ لکھنا چھوڑ دیا اور برجستہ انداز میں بولنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد میں نے انڈیا کے اندر اور انڈیا کے باہر سینکڑوں اجتماعات میں شرکت کی اور لمبی لمبی تقریریں کیں۔ یہ بلاشبہہ اُن جان شہید کے اجتماع والی دعا کا کرشمہ تھا۔ میری سمجھ کے مطابق یہ دعا اسم اعظم کے ساتھ کی ہوئی دعا تھی ۔ اس سے پہلے میں گویا ایک بے زبان انسان تھا۔ میرے مرحوم عزیز مولانا اقبال احمد سہیل (وفات: 1955) مجھ کو بچپن میں ’’مرزا پھویا‘‘ کہا کرتے تھے۔ مذکورہ واقعے کے بعد میں جس طرح اجتماعات میں بولنے لگا‘ اس کی کوئی بھی توجیہہ دعا کے سوا نہیں کی جاسکتی۔ تو میرے لئے پلے بیک اسپیکر بن جا ایک بار میں ایک مغربی ملک کے سفر پر تھا۔ اس دوران مجھے ایک اجتماع میں خطاب کیلئے بلایا گیا۔ بلانے والے نے مجھ سے یہ نہیں بتایا تھا کہ مجمع کی نوعیت کیا ہوگی‘ اس نے صرف یہ بتایا تھا کہ یہ پڑھے لکھے لوگوں کا مجمع ہوگا۔ کسی غلط فہمی کی بنا پر میرے ذہن میں یہ آگیا کہ وہاں ہندوستان اور پاکستان کے لوگ ہوں گے اور مجھے وہاں اردو میں خطاب کرنا ہوگا۔ یہ رات کا وقت تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک صاف ستھرے ہال میں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ دریافت کرنے پر مجھے بتایا گیا کہ یہ سب انگریزی داں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader