Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

میرے جیسے عاجز اور بے حقیقت آدمی کے ذریعہ یہ واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کی اس کے سوا کوئی اور توجیہہ ممکن نہیں کہ اسمِ اعظم کی دعا جو میرے بے قرار دل سے نکلی، اس کو خدا نے قبول فرمایا اور اس طرح اسلام کے جدید تعارف کا وہ واقعہ پیش آیا جو میرے جیسے انسان کے لئے نا قابلِ تصور تھا۔ ایک واقعہ 24 اکتوبر 2005 کا واقعہ ہے۔ یہ عید کا دن تھا۔ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ نئی دہلی کی ایک مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے گیا۔ وہاں میں مسجد کے ایک گوشے میں تنہا بیٹھا ہوا تھا۔ میں مسلسل رورہا تھا اور بے قراری کے عالم میں دل کی زبان سے دعا کر رہا تھا۔ میری اس حالت کو مولانا محمد ذکوان ندوی نے دیکھا۔ بعد کو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا کیا معاشی تھا۔ ان کے پوچھے پر اس نے بتایا کہ مجھے وہ حدیث یاد آئی جس میں عید الفطر کے دن نماز کے لئے نکلنے والے اہل ایمان کا ذکر ہے۔ وہ حدیث اس طرح ہے: ’’..... فاذا كان يوم هم‘ یعنی يوم فطر هم‘ باھی بھم ملائکہ، فقال: ملائکتی‘ ما جزاء اجير وفى عمله - قالوا: ربنا‘ جزائه ان يوفى اجره - قال: ملائکتی‘ عبیدی وامائی قضوا فریضتی عليهم‘ ثم خرجوا يعجون الى الدعاء‘ وعزتی وجلالی و کرمی و علوی و ارتفاع مکانی لا جينھم ۔ فیقول: ارجعوا افقد غفرت لكم‘ وبذلت سيئاتكم حسنات ۔ قال : فیرجعون مغفوراً لهم ۔ (رواه البیهقى فى شعب الایمان‘ مشكوة المصابيح‘ رقم الحديث: 2096)- ترجمہ: جب ان کی عید کا دن آتا ہے، یعنی عید فطر کا دن‘ تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: اے میرے فرشتو! اس عامل کا اجر کیا ہے جس نے اپنے عمل کو پورا کر دیا۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! اس کی جزا یہ ہے کہ اس کو اس کے عمل کا پورا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page