Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

ایک واقعہ

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

بدلہ دے دیا جائے۔ خدا کہتا ہے کہ اے میرے فرشتو میرے بندوں اور میری بندیوں نے میرے اس فرض کو ادا کر دیا جوان پر تھا، پھر وہ نکلے ہیں دعا کے ساتھ مجھ کو پکارتے ہوئے۔ میری عزت اور میرے جلال کی قسم، میرے کرم، میرے علو شان اور میر بلند مقام کی قسم، میں ضرور ان کی پکار کو سنوں گا۔ پھر خدا کہتا ہے کہ : تم لوگ واپس جاؤ، میں نے تم کو بخش دیا اور میں نے تمہارے سیئات کو حسنات میں بدل دیا۔ پس وہ لوگ اس طرح لوٹتے ہیں کہ ان کی مغفرت ہوچکی ہوتی ہے۔ آج کے دن کی نسبت سے یہ حدیث مجھے یاد آئی۔ یہ سوچ کر میرا دل بے قرار ہو گیا کہ آج کے دن خدا لوگوں کو بڑے بڑے انعام دے رہا ہے، لیکن یہ انعام عمل کرنے والوں کے لئے ہے اور میرے پاس کوئی عمل نہیں۔ پھر مجھ کو سر سید احمد خاں (وفات: 1898) کا ایک واقعہ یاد آیا۔ وہ اپنے محمدن کالج (موجودہ علی گڑھ یونیورسٹی) کے چندے کے لئے ایک مسلم نواب کے یہاں گئے۔ نواب صاحب سرسید کے بعض خیالات پر ان سے بہت غصہ تھے۔ انہوں نے سرسید سے ملنے سے انکار کر دیا، مگر سرسید مایوس نہیں ہوئے۔ ان کو معلوم تھا کہ شام کو نواب صاحب اپنی گھوڑا گاڑی پر سیر کے لئے نکلتے ہیں۔ اس وقت ان کی کوٹھی کے سامنے بھکاری لوگ بیٹھ جاتے ہیں۔ نواب صاحب ہر ایک کو کچھ نہ کچھ دیتے ہوئے آگے چلے جاتے ہیں۔ سرسید شام کے وقت وہاں پہنچے اور بھکاریوں کی صف میں اس طرح بیٹھ گئے کہ اپنی ٹوپی کو کاسۂ گدا کی طرح اپنے سامنے رکھ لیا۔ نواب صاحب حسب معمول اپنی گھوڑا گاڑی پر نکلے۔ انہوں نے دیکھا کہ سرسید بھکاریوں کی صف میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر نواب صاحب کو تعجب ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سید تم یہاں کہاں۔ سرسید نے جواب دیا کہ....... نواب صاحب! اگر آپ مجھے چندہ نہیں دے سکتے تو بھیک تو دے سکتے ہیں۔ اس بات کا نواب صاحب پر بہت اثر پڑا۔ وہ اپنی گاڑی سے اتر پڑے اور سرسید کو لے کر اپنی کوٹھی کے اندر گئے۔ ان کو عزت کے ساتھ بٹھایا اور ان کو کالج کے لئے کافی چندہ دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page