دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے اس واقعے کو لے کر کہا کہ خدایا، اگر میں عمل کی بنیاد پر کچھ پانے کا مستحق نہیں تو بھیک کے طور پر مجھے اپنا انعام عطا کردے، کیونکہ تو نے قرآن میں جس طرح عامل کو عطیہ کا مستحق قرار دیا ہے، اسی طرح تو نے سائل کو بھی عطیہ کا مستحق بنایا ہے۔ اگر تو انسان سے یہ چاہتا ہے کہ وہ عامل کو دینے کے ساتھ سائل کو بھی دے تو یقیناً میں امید کرسکتا ہوں کہ تو خود بھی میرے ساتھ اسی طرح کا معاملہ فرمائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی اسم اعظم کے ساتھ کی دعا کی ایک مثال ہے؛ جس کی توفیق مجھے خدا کی خصوصی رحمت کے تحت حاصل ہوئی ۔ جہاں تک میرا تجربہ ہے ، اسم اعظم کے ساتھ دعا نہ تو کسی یاد کئے ہوئے الفاظ کو دہرانے کا نام ہے اور نہ خود انسان پیشگی طور پر سوچ کر اس قسم کی دعا کر سکتا ہے۔ اس قسم کی دعا براہ راست خدا کی توفیق سے ہوتی ہے اور وہ اچانک ہی انسان کے سینے میں سرائیت کرتی ہے ، جس کو فارسی میں "دل اچانک بہتر خیال" کہا جاتا ہے۔ موسٰی علیہ کے سینے سے ابن پڑی ہے بیٹھے ہوئی ہوالہ کی پہاڑ اچانک پھٹ پڑے حالانکہ سومنیات کے ماہرین نے اس کی پیش گوئی نہ کی ہو۔ نصرت الہی کا اصول ایک شخص مقام اضطرار پر ہو تو صرف دعا کے کلمات ہی نصرت الہی کو کھینچنے کیلئے کافی ہیں۔ امن یجیب المضطر اذا دعاه و يكشف السوء (سوره النمل ۶۲) ترجمہ : کون ہے جو بے بس کی پکار کو سنتا ہے۔ اور اس کے دکھ کو دور کر دیتا ہے۔ مگر جو شخص یا گروہ مقام اضطرار پر نہ ہو بلکہ اس کو جدو جہد کے مواقع بھی حاصل ہوں، اس کے لئے دعا کے ساتھ یہ بھی ضروری ہوگا کہ وہ اپنی دعا کے موافق عمل کرے۔ اليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه (سوره فاطر ۱۰)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader