ربّانی کیفیت
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
ربّانی کیفیت عن قیس بن ابی حازم قال کان عبد الله بن رواحة واضعاً راسه فى حجر امراته فبكى فبكت امرأته . قال ما يبكيك قالت رأيتك تبكى فبكيت قال انی ذكرت قول الله عزوجل (وانمنكم الاواردها) فلاادری انجوم منها ام لا . وفى روایت و كان مريضا (تفسیر ابن كثير، الجزء الثالث، صفحه ۱۳۲) قیس بن ابی حازم تابعی حضرت عبداللہ بن رواحہ صحابی کے بارہ میں بتاتے ہیں کہ وہ اپنا سر اپنی بیوی کے گود میں رکھے ہوئے تھے کہ وہ روپڑے۔ ان کی بیوی بھی رونے لگیں۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم کو کس چیز نے رلایا۔ بیوی نے کہا کہ میں نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا تو میں بھی رونے لگی۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ قول (اور آٹا کہ تم میں سے ہر ایک شخص جہنم سے گزرنے والا ہے (مریم)) تو مجھے نہیں معلوم کہ میں اس سے نجات یاد آیا کہ میں نے ہر اس شخص سے ترارے کا (مریم) پوچھتے ہیں معلوم ہے یا میں اس سے نہ جاؤں گا یا نہیں بچوں گا۔ ایک روایت کے مطابق اس وقت حضرت عبداللہ بن رواحہ بیمار تھے ۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں۔ ایک جلیل القدر صحابی کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ وہ چیز کیا ہے جس کو شریعت میں’’ذکر‘‘ کہا جاتا ہے۔ ذکر الفاظ کے ورد کا نام نہیں۔ وہ ایک معنوی طوفان کا نام ہے جو ایک بندے کے سینہ میں اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے رب کو یاد کرے ۔ ایک شخص جو واقعۂ اللہ پر یقین رکھتا ہو وہ جب اللہ کو یاد کرتا ہے تو وہ اس کی عظمت سے دہل اٹھتا ہے۔ وہ اس کے سامنے پیشی کے تصور سے کانپنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کے اندر کی کیفیت بے اختیارانہ طور پر لفظوں کی صورت میں ڈھل جاتی ہے۔ یہی ذکر ہے۔ خدا کا ذکر خدا کو اپنے سینہ میں اتارنے کا نام ہے، ایسے خدا کو جس کی برداشت پہاڑ بھی نہیں کر سکتے۔ اس طوفان خیز لمحہ میں جو ربانی کلمات انسان کی زبان سے نکلتے ہیں انہیں کا نام ذکر ہے۔ ذکر خدا کو پانے کا نام ہے نہ کہ کسی قسم کے الفاظ کو پانے کا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader