اللہ کو پا لینا
Urdu book, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ کو پا لینا حافظ حامد حسن علوی (1959-1972) اعظم گڑھ کے ایک صاحب طریقت بزرگ تھے۔ ان کے خلیفہ مولاناسعید احمد صاحب مرحوم نے ایک بار حافظ صاحب قبلہ سے پوچھا کہ قرآن میں آتا ہے کہ اللہ کا ذکر کثیر کرو (احزاب (۴۱) اس کا مطلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بہت سے لوگوں سے پوچھا کہ ذکر کثیر (بہت یاد) کا اطلاق کتنے عدد پر ہوتا ہے تو لوگوں نے مختلف اعداد بتائے۔ کسی نے کہا ۲۵ ہزار بار اللہ کا نام لینا ذکرِ کثیر ہے کسی نے کہا ۵۰ ہزار بار ذکر کرنا ذکرِ کثیر ہے۔ مگر ۲۵ ہزار یا ۵۰ ہزار تو گنتی کی حدیں ہیں۔ ان سے آگے بھی گنتیاں ہیں۔ اس قسم کے کسی محدود عددی نصاب کو ذکرِ کثیر کیسے کہا جاسکتا ہے۔ خدا لامحدود ہے اس لئے اس کا ذکرِ کثیر بھی ایسی گنتی پر ختم ہونا چاہئے جو گنتی کی آخری حد ہو۔ حافظ حامد حسن علوی نے جواب دیا: ذکر کے معنی ہیں عدم نسیان۔ نہ بھولنے کی حالت۔ مثلاً ایک شخص کو حکومت کا افسر یہ حکم سنادے کہ اتوار کے دن تم کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا۔ تو اس خبر کو سننے کے بعد اگر چہ وہ آدمی روزمرہ کے معمولات میں مشغول نظر آئے گا۔ وہ کھائے پیئے گا، بیوی بچوں کے ساتھ رہے گا، مگر اس کا ذہن ہر لمحہ پھانسی کے ذکر (یاد) میں مشغول رہے گا۔ وہ کسی حال میں بھی اس سے غافل نہ ہو پائے گا۔ بس اس مثال سے ذکر کی حقیقت سمجھ سکتے ہو۔ ذکر حقیقتًا ایک مستقل یاد کا نام ہے نہ کہ کوئی عددی نصاب پورا کرنے کا۔ جب آدمی اللہ کو پاللیتا ہے تو وہ اس کی روح میں سما جاتا ہے‘ وہ اس کے خون میں تیرنے لگتا ہے۔ ہر موقع ہر اس کو خدا کا خیال آتا رہتا ہے۔ زندگی کا ہر واقعہ اس کو خدا کی یاد دلانے والا بن جاتا ہے۔ اسی کا نام ذکر ہے۔ یہ یاد کبھی سینہ کی کسک بن کر اس کو تڑپا دیتی ہے۔ کبھی اس کے دل کو پگھلا کر آنسوؤں کی صورت میں بہہ پڑتی ہے۔ کبھی خوف یا محبت کے کلمہ کی صورت میں اس کی زبان پر آ جاتی ہے۔ کبھی شکر یاد عابن کر اس کی زبان سے ٹپک پڑتی ہے۔ ذکر کسی قسم کے رٹے ہوئے الفاظ کو دہرانا نہیں ہے‘ ذکر دل کی ایک حالت کا نام ہے۔ دل کے اندر اٹھنے والی یہ موجیں کبھی الفاظ کی صورت میں بھی ظاہر ہو جاتی ہیں‘ یہ الفاظ ذکر و دعا کے معروف الفاظ بھی ہو سکتے ہیں اور غیر معروف الفاظ بھی‘ وہ عربی میں بھی ہو سکتے ہیں اور آدمی کی اپنی مادری زبان میں بھی۔ مگر ذکر یقینی طور پر کسی قسم کے تکرار الفاظ کا نام نہیں ہے بلکہ اس قلبی حالت کا نام ہے جس کے نتیجہ میں خدا کو یاد کرنے والے الفاظ زبان سے نکل پڑتے ہیں۔ الفاظ کی تکرار کو ذکر کہنا ایسا ہی ہے جیسے ریکارڈ کی آواز کو ایک زندہ انسان کا کلام کہا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader