Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا عبادت ہے

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر ان الفاظ کا اس کی قلبی کیفیات سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ اس کی دعا صرف تلفظ لسانی کے ہم معنی ہوگی نہ کہ روحانی کیفیت کے اظہار کے ہم معنی۔ حدیث میں آیا ہے کہ جب تم اللہ سے دعا مانگو تو خوب لپٹ کر دعا مانگو۔ لپٹ کر دعا مانگنے کا مطلب کیا ہے؟ اس کو میں ایک مثال سے واضح کروں گا۔ یہ مثال بیٹے اور باپ کے معاملے سے تعلق رکھتی ہے۔ مگر اس بندے اور خدا کے درمیان دعا کے معاملے کو بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ رام پور کا واقعہ ہے۔ وہاں ایک اسکول ماسٹر تھے۔ ان کی آمدنی زیادہ نہ تھی۔ ان کے بیٹے کو بائیسیکل کا شوق ہوا۔ اس نے اپنے باپ سے کہا کہ میرے لئے ایک بائیسیکل لے دیجئے ۔ باپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ بیٹا کئی دن تک اپنے اس سوال کو دہراتا رہا۔ مگر باپ اس کو نظر انداز کرتا رہا۔ ایک دن بیٹے نے زیادہ اصرار کیا تو باپ نے غصہ ہو کر کہا کہ میرے پاس بائسیکل خریدنے کے لئے پیسہ نہیں ۔ اب اگر تم نے بائسیکل کے لئے کہا تو میں تم کو ماروں گا۔ یہ سن کر بیٹھا رونے لگا۔ اس نے روتے ہوئے کہا۔۔۔۔ آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں ، آپ سے نہ کہیں تو کس سے کہیں ۔ بیٹے کے یہ الفاظ سن کر باپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ اس نے کہا کہ اچھا میرے بیٹے ! میں ضرور تم کو بائسیکل دوں گا۔ اور پھر پیسہ کا انتظام کر کے اگلے دن اس نے بائسیکل خریدی اور بیٹے کو دے دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب بیٹے نے مذکورہ الفاظ کہے تو گویا باپ اور بیٹا دونوں ایک تر ازو پر آ گئے۔ باپ نے محسوس کیا کہ اگر وہ بائسیکل کا انتظام نہ کرے تو گویا اس کی پدر یت (fatherhood) ہی مشتبہ ہو جائے گی ۔ باپ اور بیٹے کا یہ واقعہ بندے اور خدا کے معاملے کو بتاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کونسی دعا ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے ، جو لوٹائی نہیں جاتی۔ یہ وہ دعا ہے جس میں بندے کی پوری ہستی دعا میں ڈھل جاتی ہے۔ جب دعا کا قبول ہونا خدا کے لئے بھی اتناہی بڑا مسئلہ بن جاتا ہے جتنا بڑا انسان کے لئے۔ غالباً دعا کی یہی قسم ہے جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ: رب أشعث

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page