دعا عبادت ہے
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
أغبر مدفوع بالأبواب لو أقسم على الله لأبره (صحیح مسلم، کتاب البر) یعنی بہت سے لوگ ہیں جن کے بال بکھرے ہوئے ہیں، جن کے کپڑے گرد آلود ہیں، جن کے اوپر لوگوں کے دروازے بند ہیں، اگر وہ اللہ پر قسم کھائیں تو اللہ ان کی قسم پورا کرے گا۔ اس حدیث میں اس انسان کی تصویر بتائی گئی ہے جو اللہ کے کام میں اتنا زیادہ مشغول ہوا کہ اس کو بال اور کپڑے کا اہتمام کرنے کی بھی فرصت نہ رہی۔ جو لوگ اپنے آپ کو اللہ کے کام میں اس طرف وقف کردیں ان کا معاملہ اللہ کا معاملہ بن جاتا ہے۔ جب وہ کسی چیز کے لئے دعا کرتے ہیں تو وہ ایک ایسی چیز کو مانگنا ہوتا ہے جس کی قبولیت کا فیصلہ پیشگی طور پر کیا جا چکا ہے۔ یہ دعا کوئی سادہ چیز نہیں ہے یہ مومن کے لئے ایک عجیب سرمایہ ہے۔ دعا کے سرمایہ ہونے کے بہت سے پہلو ہیں۔ مثلاً کسی شخص کے خلاف آپ سے کوئی ایسی غلطی ہوگئی جس کی تلافی کی کوئی اور صورت نہ ہو تو آپ اس کے لئے اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہیں کہ اے اللہ تو میری طرف سے اس کے حق میں دعا نے خیر مڈھ دے۔ آپ کے اوپر ہی کا احسان ہے اور آپ اس کے احسان کا بدلہ نہ دے سکتے ہوں تو آپ اس کے حق میں بہترین دعائیں کریں۔ آپ کسی معذوری کی بنا پر کوئی دینی کام نہ کرسکیں تو آپ ان لوگوں کے لئے اللہ کی مدد کی دعا کریں جو اس کام کو انجام دے رہے ہیں۔ آپ کے دل میں کسی کے خلاف شکایت آجائے تو آپ اللہ سے یہ درخواست کریں کہ وہ آپ کے دل سے شکایت کو نکال دے اور اس کی جگہ خیر خواہی کے جذبات رکھ دے۔ امام ابن تیمیہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب قرآن کی کسی آیت کو سمجھنے میں انہیں مشکل پیش آتی تو وہ وضو کر کے کسی ویرانے میں چلے جاتے اور دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ سے یہ کہتے کہ اے ابراہیم کو علم دینے والے مجھے بھی علم دے (یا معلم ابراهيم علمنی) حقیقت یہ ہے کہ دعا ہر مشکل کے وقت مومن کا سہارا ہے۔ وہ ہر مشکل مسئلے کا حل ہے۔ دعا بلا شبہہ ایک طاقت ہے، سب سے بڑی طاقت ۔ دعا اللہ سے ملاقات کا لمحہ ہے۔ مگر یہ لمحہ غافل لوگوں کے حصے میں نہیں آتا۔ یہ قیمتی لمحہ صرف اسی انسان کے لئے مقدر ہے جو اپنے دل کے اندر اعلیٰ ربانی کیفیت کو بیدار کر چکا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader