Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

ذکر کی کوئی حد مقرر نہیں

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

ذکر کی کوئی حد مقرر نہیں حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں پر جو چیز بھی فرض کی ہے اس کی کوئی معلوم حد ہے۔ پھر عذر کی حالت میں آدمی کیلئے رخصت ہے۔ مگر ذکر (یاد) کی کوئی حد مقرر نہیں۔ اور نہ اس کے چھوڑنے کیلئے کوئی عذر قابلِ قبول ہے۔ اسی لئے حکم ہے کہ ہر حال میں اللہ کا ذکر کرو۔ (تفسیر ابن کثیر جلد ۴، تحت سورۃ الاحزاب) یہاں ہم ذکر کے بارہ میں دو حدیثیں نقل کرتے ہیں : اخر ج الامام احد عن معاذ بن جبل مرفوعا قال: الا اخبر كم بخير اعمالكم واز كاها عند مليككم و ارضها فی درجاتكم و خير لكم من تعاطی الذهب والفضة و من ان تلقوا عدوكم غداً فتضربوا أعناقهم و يضربوا أعناقكم قالوا بلى يا رسول الله قال ﷺ : ذكر الله عز و جل ، وردى أن رجلا سأل النبى ﷺ قال : أى المجاهدين أعظم أجراً يا رسول الله ؟ قال ﷺ : أكثرهم الله تعالى ذكراً ، قال فأى الصائمين أكثر أجرأ ، قال ﷺ : أكثرهم الله عز و جل ذكراً ، ثم ذكر الصلا و الزكاة و الحج و الصدقة ، كل ذلك يقول رسول الله ﷺ : أكثرهم الله ذكراً ، فقال ابو بكر لمعر رضى الله عنهما : ذهب الذاكرون بكل خير ، فقال رسول الله ﷺ : أجل (أخرجه الامام أحد في المسند) رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معا ذ بن جبل سے فرمایا: کیا میں تم کو بتاؤں کہ تمہارے اعمال میں سب سے اچھا عمل کیا ہے ۔ اور تمہارے مالک کے یہاں سب سے زیادہ تمہارے اعمال میں سب سے اچھا مل گیا ہے۔ اور تمہارے مالک کے یہاں سب سے زیادہ پاکیزہ ہے اور تمہارے رتبہ کو سب سے زیادہ بڑھانے والا ہے اور تمہارے لئے سونا چاندی دینے سے بھی زیادہ بہتر ہے اور اس سے بہتر ہے کہ تم کل اپنے دشمن سے ملؤ تم ان کی گردنین دیتے سے بھی زیادہ ہے، ہر ایک سے، ہر ایک کے رحم میں اپنے دن سے، موسم ان کی سردین مارو اور وہ تمہاری گردنین ماریں۔ صحابہ نے کہا ہاں اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا: اللہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page