مفاد پرستی
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
مفاد پرستی ایک لطیفہ ہے کہ امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر جب یروشلم گئے تو اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم مناہن بے جن ان کو دیوار گریہ کے پاس لے گئے جو یروشلم میں یہودیوں کی مقدس ترین جگہ ہے۔ وہاں جمی کارٹر نے دعا کرتے ہوئے کہا: ’’اے خدا عربوں اور اسرائیل کو امن تک پہنچانے میں مدد کر‘‘۔ بے جن نے کہا ’’آمین‘‘۔ اس کے بعد کارٹر نے دعا کی: ’’خدایا، مصر یوں کو رپ میں مدارب ہے، اس میں مدابورت رھاس ، مدباری میں اور اسرائیل کو پر امن طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی توفیق دے۔ بے جن نے کہا " آمین "۔ اس کے بعد جمی کارٹر نے دعا کی کہ: " خدایا ، اسرائیلیوں کو بتا دے کہ وہ عربوں کو وہ تمام علاقے واپس کر دیں جن پر انہوں نے 1964ء کی جنگ میں قبضہ کیا ہے۔ یہ سن کر بے جن سے کہا: " جناب صدر میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آپ ایک دیوار کو خطاب کر رہے ہیں "۔ When former US President Carter visited Jerusalem, Israel's Prime Minister Begin took him to the Wailing Wall. "Oh God, Carter prayed, "please help the Arabs and Israelis to find peace." (Reader's Digest, May 1981) یہ صرف اسرائیلی وزیر اعظم کا لطیفہ نہیں ہے؛ یہی موجودہ زمانہ کے تمام انسانوں کی تصویر ہے۔ لوگ انصاف کی باتیں کرتے ہیں مگر اس سے مراد صرف وہ انصاف ہوتا ہے جس کا فائدہ ان کی اپنی ذات کو مل رہا ہو، جو انصاف ان کی اپنی ذات کے خلاف فیصلہ دے اس سے لوگوں کو کوئی دلچسپی نہیں ۔ لوگ دعاؤں پر آمین کہتے ہیں مگر ان کی آمین صرف اس دعا کے لئے ہوتی ہے جس کی زد دوسروں پر پڑ رہی ہو، جس دعا کی زد خود ان کے اپنے اوپر پڑے اس دعا کے اوپر کوئی آمین کہنے والا نہیں ۔ لوگ حق پرستی کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کی حق پرستی کا مطلب دوسروں پر اپنے حقوق ثابت کرنا ہے جو حق انہیں ان کی اپنی ذمہ داریاں یاد دلائے اس حق کا آج کی دنیا میں کوئی خریدار نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader