ذکر کی کوئی حد مقرر نہیں
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
تعالیٰ کا ذکر۔ اسی طرح روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اے خدا کے رسول مجاہدوں میں سب سے زیادہ اجر کس مجاہد کا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہو۔ پھر آدمی نے پوچھا کہ روزہ داروں میں سب سے زیادہ اجر کس روزہ دار کا ہے۔ آپ نے فرمایا وہ شخص جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے ۔ اسی طرح آدمی نے نماز اور زکوٰۃ اور حج اور صدقہ کے بارہ میں سوال کیا۔ ہر بار آپ یہی جواب دیتے رہے کہ وہ شخص جو سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرے۔ یہ سن کر حضرت ابو بکر نے حضرت عمر سے کہا: ذکر کرنے والے نیکی میں سب سے آگے بڑھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ ذکر تمام عبادتوں سے افضل کیوں ہے۔ اسلئے کہ ذکر تمام عبادتوں کا خلاصہ ہے۔ تمام عبادات و اعمال سے بالآخر جو چیز مطلوب ہے وہ یہی ہے کہ آدمی خدا کا ذکر کرنے والا بن جائے۔ ذکر دراصل معرفت خداوندی کا دوسرا نام ہے۔ جب آدمی کو اپنے رب کی معرفت حاصل ہوتی ہے جب اس کا تصور ظاہر کے پردہ کو پھاڑ کر غیب کی حقیقتوں کو دیکھ لیتا ہے تو اس وقت اس کے عین قدرتی نتیجہ کے طور پر جو کیفیت آدمی پر گزرتی ہے اسی کا نام ذکر ہے۔ ذکر دراصل ایک اعلیٰ ترین تجربہ ہے نہ کہ کسی قسم کی لفظی تکرار۔ ذکر کا تعلق کسی لفظ سے نہیں بلکہ حقیقت سے ہے۔ ذکر دراصل کسی انسان کا وہ قیمتی لمحہ ہے جب کہ وہ خدا کی عظمتوں کو اتنی گہرائی کے ساتھ پالے کہ اس کے دل میں معرفت الہی کا بھونچال آجائے اور اس کی زبان سے اس کے اعتراف واظہار کا فوارہ پھوٹ نکلے۔ ذکر کسی بندۂ خدا کی اس حالت کا نام ہے جب کہ وہ خدا کے احسانات اور اس کے کمالات کو سوچتا ہے۔ اس سے اس کے قلب و دماغ میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ اس کی روح یاد خدا میں نہا اٹھتی ہے۔ اس کی زبان سے بے ساختہ خدا کی خدائی کے اعتراف میں ملکوتی الفاظ نکلنے لگتے ہیں۔ اس کو موت اور آخرت کی یاد آتی ہے۔ وہ زندگی کے آغاز و انجام پر غور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader