Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

ہر حال میں خدا سے پناہ مانگنا

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر حال میں خدا سے پناہ مانگنا عمر بن محبوب الکنائی (۲۵۵ - ۱۶۳ھ) بصرہ میں پیدا ہوئے اور وہیں انتقال کیا۔ وہ عام طور پر الجاحظ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کا شمار ادب کے ائمہ میں ہوتا ہے۔ مطالعہ کے اتنے زیادہ حریص تھے کہ آخر عمر میں جب مفلوج ہو کر مرے تو ان کے سینہ پر کتاب رکھی ہوئی تھی۔ ان کی ایک کتاب "البیان والتبیین" ہے۔ اس کتاب کے مقدمہ میں انہوں نے یہ دعا لکھی ہے: اللہم انا نعوذ بک من فتنة القول كما نعوذبك من فتنة العمل . ونعوذبك من التكلف لما لانحسن كما نعوذبك من العجب بما نحسن. ونعوذبك من السلاطة والهذر كما نعوذبك من العي والحصر . اے اللہ ! ہم تجھ سے قول کے فتنہ سے اسی طرح پناہ مانگتے ہیں جس طرح ہم تجھ سے عمل کے فتنہ سے پناہ مانگتے ہیں۔ اور ہم تجھ سے اس کام کا بار اٹھانے سے پناہ مانگتے ہیں جس کو ہم بخوبی ہیں کر سکتے اور اسی طرح اس کام پر ٹھنڈے پناہ مانگتے ہیں جس کو ہم بخوبی کر سکتے ہیں۔ اور ہم تجھ سے زبان درازی اور لغویات سے پناہ مانگتے ہیں جس طرح ہم تجھ سے کلام پر قادر نہ ہونے اور گفتگو میں عاجز ہو جانے سے پناہ مانگتے ہیں۔ یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر چیز کے ساتھ کوئی نہ کوئی آزمائش کا پہلو لگا ہوا ہے۔ اس لئے وہ شخص خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو اُس کو ہر معاملہ میں خدا سے پناہ مانگنا چاہئے اور ہر معاملہ میں خدا کی مدد کا طالب ہونا چاہئے۔ اس دنیا کی اصل امتحان یہ نہیں کہ آدمی نے کیا پایا اور کیا کھویا۔ یہاں اصل امتحان یہ ہے کہ کھونے یا پانے کے موقع پر اس نے کیا رد عمل (response) پیش کیا۔ اس کو قول کے معاملہ میں بھی محتاط ہونا چاہئے جتنا کوئی شخص عمل کے معاملہ میں محتاط ہوتا ہے۔ اس کو اپنے کئے کو بھی اسی خانہ میں ڈالنا چاہئے جس خانہ میں وہ اپنے نہ کئے کو ڈالتا ہے۔ اس کو قدرت کے موقع پر بھی اسی طرح عبدیت کا ثبوت دینا چاہئے جس طرح عجز کے موقع پر عبدیت کا ثبوت دیا جاتا ہے۔ اس دنیا میں کامیابی بھی آزمائش ہے اور ناکامی بھی آزمائش۔ یہاں عمل بھی جانچ کا لمحہ ہے اور بے عمل بھی جانچ کا لمحہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page