Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا اور روزہ

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا اور روزہ روزہ کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں دعا کا ذکر ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ روزہ اور دعا میں خاص تعلق ہے۔ روزہ آدمی کو مؤثر انداز میں دعا کرنے والا بناتا ہے : واذا سئلک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوة الداع اذا دعان فلیستجِیبوا لی و لیؤ منوا بیلعلھم یر شدون (البقره ۱۸۶ ) اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں۔ پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔ تو چاہئے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ روزہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے صبر کا عمل ہے۔ صبر کیا ہے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی حکم الہی کی تعمیل میں پیش آنے والی مشکلات کو برداشت کرے۔ وہ برداشت کی قیمت پر اللہ تعالی کا فرماں بردار بنے۔ یہ صبروبرداشت ہی وہ چیز ہے بس سے آدمی اس لبی حالت کو پہنچتا ہے جو اس کو خدا سے قرب کا تجربہ کرائے۔ اس کے بعد ہی آدمی کی زبان سے وہ پر اثر کلمات نکلتے ہیں جو خدا کے یہاں قبولیت کے مستحق ٹھہریں۔ صبر ہی وہ زمین ہے جس سے دعا کا مبارک پودا اگتا ہے۔ اس دنیا میں وہی شخص اللہ کو پاتا ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرے اور اللہ تک اسی شخص کے الفاظ پہنچتے ہیں جس نے اپنی روح کے تاروں کو اللہ سے ملا رکھا ہو۔ اللہ سے قربت کثیف روحوں کو حاصل نہیں ہوتی۔ یہ خوش نصیبی صرف اس شخص کے لئے مقدر ہے جو اپنے اندر لطیف روح کا سرمایہ رکھتا ہو۔ دعا صرف ایک لفظی عمل نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک قلبی عمل ہے۔ قلب کے اندر جتنی زیادہ صلاحیت ابھرے گی اتنا ہی زیادہ اثر انگیز دعا آدمی کی زبان سے نکلے گی۔ اسی سے روزہ اور دعا کا ربط معلوم ہوتا ہے۔ روزہ آدمی کے قلب کی استعداد کو بڑھاتا ہے اور جب قلب کی استعداد بڑھتی ہے تو اس سے جو دعا نکلتی ہے وہ بھی عام دعاؤں سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔ حقیقی روزہ وہ ہے جو حقیقی دعا میں ڈھل جائے۔ جو روزہ داری کے احساسات کو آدمی کی دعا میں شامل کر دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page