Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے نہ کہ محض زبانی الفاظ سے حضرت مسیح نے اپنے ایک وعظ میں فرمایا: مانگو تو تم کو دیا جائے گا۔ ڈھونڈ و تو پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹاؤ گے تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔ کیوں کہ جو کوئی مانگتا ہے اسے ملتا ہے۔ اور جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اس کے واسطے کھولا جائے گا۔ تم میں ایسا کون آدمی ہے کہ اگر اس کا بیٹا اس سے روٹی مانگے تو وہ اس کو پتھر دے۔ یا اگر مچھلی مانگے تو اس کو سانپ دے۔ پس جب کہ تم برے ہو کر اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا جانتے ہو تو تمہارا باپ جو آسمان پر ہے اپنے مانگنے والوں کو اچھی چیزیں کیوں نہ دے گا۔ (متی: ۷۔۱۲) یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا سے مانگنے والا بھی محروم نہیں ہوتا۔ مگر مانگنا صرف کچھ لفظوں کو دہرانے کا نام نہیں ہے۔ مانگنا وہی مانگنا ہے جس میں آدمی کی پوری ہستی شامل ہوئی ہو۔ ایک شخص زبان سے کہہ رہا ہو" خدایا مجھے اپنا بنالے" مگر عملاً وہ اپنی ذات کا بنا رہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے مانگا ہی نہیں۔ اس کو جو چیز ملی ہوئی ہے وہی دراصل اس نے خدا سے مانگی تھی۔ خواہ زبان سے اس نے جو لفظ بھی ادا کئے ہوں۔ ایک بچہ اپنی ماں سے روٹی مانگے تو یہ ممکن نہیں کہ ماں اس کے ہاتھ میں انگارہ رکھ دے۔ خدا اپنے بندوں پر تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ خدا سے خشیت مانگیں اور وہ آپ کو قساوت دیدے۔ آپ خدا کی یاد مانگیں اور وہ آپ کو خدا فراموشی میں مبتلا کردے۔ آپ آخرت کی تڑپ مانگیں اور خدا آپ کو دنیا کی محبت میں ڈال دے۔ آپ کیفیت سے بھری ہوئی دین داری مانگیں اور خدا آپ کو بے روح دین داری میں پڑا رہنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page