دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
دے۔ آپ حق پرستی مانگیں اور وہ آپ کو شخصیت پرستی کی کوٹھری میں بند کر دے۔ آپ کی زندگی میں آپ کی مطلوب چیز کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے ابھی تک اس کو مانگا ہی نہیں۔ اگر آپ کو دودھ خریدنا ہو اور آپ چھلنی لے کر بازار جائیں تو پیسے خرچ کرنے کے بعد بھی آپ خالی ہاتھ واپس آئیں گے۔ اسی طرح اگر آپ زبان سے دعا کے کلمات دہرارہے ہوں مگر آپ کی اصل ہستی کسی دوسری چیز کی طرف متوجہ ہو تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ نہ آپ نے مانگا تھا اور نہ آپ کو ملا۔ جو مانگے وہ کبھی پائے بغیر نہیں رہتا۔ یہ مالکِ کائنات کی غیرت کے خلاف ہے کہ وہ کسی بندے کو اس حال میں رہنے دے کہ قیامت میں جب خدا سے اس کا سامنا ہو تو وہ اپنے رب کو حسرت کی نظر سے دیکھے۔ وہ کہے کہ خدایا، میں تجھ سے ایک چیز مانگی تھی مگر تو نے مجھے نہ دی۔ بخدا! یہ ناممکن ہے۔ یہ ناممکن ہے۔ ایک پیڑ مت اس سے لے رہیں۔ خدا یہ ہا نہیں ہے، یہ ہا نہیں ہے، کائنات کا مالک تو ہر صبح وشام اپنے تمام خزانوں کے ساتھ آپ کے قریب آ کر آواز دیتا ہے "کون ہے جو مجھ سے مانگے تا کہ میں اسے دوں‘‘، مگر جنہیں لینا ہے وہ اس سے غافل اور اندھے بنے ہوۓ ہوں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader