پتھر کھسک گیا
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
پتھر کھسک گیا بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے بیان کیا۔ سننے والوں میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں۔ تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں ان میں سے تین آدمی ایک سفر پر نکلے۔ چلتے چلتے رات ہوگئی تو رات گزارنے کے لئے وہ ایک غار میں داخل ہوگئے ۔ پہاڑوں پر اکثر پتھر گرنے (land slide) کے واقعات ہوتے رہتے ہیں ۔ رات کے وقت اوپر سے ایک بڑا پتھر لڑھک کر گرا اور اس کی وجہ سے غار کا منہ بند ہوگیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس چٹان سے نجات کی ہمارے پاس اس کے سوا کوئی تدبیر نہیں ہے کہ ہم اپنے نیک عمل کا واسطہ دے کر اللہ سے ،ہوئے ہیں، اس کے دونوں مدبریں ہے نہ آپ یہ اس کی ماں نہ ہو کے وکت دعا کریں۔ اب ایک شخص دعا کرنے بیٹھا۔ اس نے کہا: خدایا! میرے ماں باپ بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ میرا معمول تھا کہ روزانہ شام کو جب میں اپنے جانور چرا کر لوٹتا تو جب تک میں ان دونوں کو دودھ نہ پلا لیتا نہ خود دودھ پیتا اور نہ کسی اور کو پلاتا۔ ایک دن میں چارہ کی تلاش میں دور نکل گیا۔ شام کو واپسی میں اتنی دیر ہوئی کہ میرے ماں باپ سو گئے۔ میں نے ان دونوں کے لئے دودھ نکال کر تیار کیا۔ جب ان کے پاس دودھ لے کر پہنچا تو دونوں کو سوتا ہوا پایا۔ مجھے یہ گوارا نہ ہوا کہ ان کو جگاؤں اور مجھ کو یہ بھی گوارا نہ تھا کہ میں ان سے پہلے دودھ پیوں اور اپنے بچوں کو پلاؤں۔ میں ان کے پاس کھڑا ہوگیا۔ میرے ہاتھ میں پیالہ تھا اور میں اس انتظار میں تھا کہ جب وہ جاگیں تو میں ان کو دودھ پیش کروں۔ اسی حال میں صبح ہوگئی ۔ بچے میرے پاؤں کے پاس بلبلاتے رہے۔ صبح کو وہ دونوں اٹھے اور انہوں نے دودھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader