ذکر کی کوئی حد مقرر نہیں
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
کرتا ہے۔ یہ چیزیں اس کو تڑپادیتی ہیں۔ وہ بیتابانہ ایسے الفاظ بولنے لگتا ہے جس میں جہنم کا خوف لپٹا ہوا ہو اور جس میں جنت کی خوشبو شامل ہوگئی ہو۔ جس آدمی کا رخ اللہ کی طرف ہو جائے تو اس پر ایسے خصوصی لمحات آتے ہیں جب کہ اس کے رب سے اس کا آمنا سامنا ہوتا ہے۔ جب بندگی اور خدائی ایک دوسرے سے بہت قریب آجاتے ہیں ۔ جب بندہ اپنے رب کو دیکھنے لگتا ہے ۔ ان خصوصی لمحات میں روح انسانی کے اندر جو تموج پیدا ہوتا ہے اور احساس بندگی اور اعتراف خداوندی کے دوطرفہ احساس کے تحت جو کلمات نکل پڑتے ہیں انہیں کو دین کی اصطلاح میں ذکر کہا جاتا ہے۔ ہم کسی ایسے سورج کو نہیں جانتے جس میں روشنی نہ ہو۔ ہم کسی ایسے کار خانہ سے واقف نہیں جس کا کوئی انجنیئر نہ ہو۔ مگر دنیا کو دیکھئے تو یہاں بڑا عجیب منظر سامنے آتا ہے۔ یہاں آرٹ ہے مگر آرٹسٹ نہیں۔ یہاں کار کردگی ہے مگر کار پرداز نہیں۔ یہاں حکمت ہے مگر حکیم نہیں۔ یہاں سرگرمیاں ہیں مگر کوئی محرک نہیں۔ یہاں زندگی ہے مگر کوئی زندگی بخش نہیں ۔ خلاصہ یہ کہ یہاں خدائی ہے مگر کوئی خدا نہیں۔ ذکر وہ ربانی لمحہ ہے جب کہ آدمی اس خلا کو عبور کر لیتا ہے۔ جب وہ ”نہیں“ سے گزر کر ”ہاں“ تک پہنچ جاتا ہے۔ جب کہ وہ مخلوقات کے پردہ میں اس کے خالق کو دیکھ لیتا ہے۔ یہ تاریخ انسانی کی عظیم ترین دریافت ہوتی ہے۔ اس دریافت کے وقت دریافت کرنے والے کے دل اور زبان پر جو تجربہ گزرتا ہے اسی کا دوسرا نام ذکر ہے۔ ۱۶ جولائی ۱۹۶۹ کی رات تمام اخباروں کے دفتروں میں زبردست سرگرمیوں کی رات تھی ۔ اسی روز پہلا انسان (آرم اسٹرانگ) چاند پر اترا تھا اور اخباروں کے دفتر میں ٹیلی پرنٹر پر مسلسل خبریں آ رہی تھیں۔ جن کو اخبارات کا اسٹاف کل صبح کے اخبار کیلئے تیزی سے لے رہا تھا۔ اس روز رات کو میں ایک اخبار کے دفتر میں گیا۔ اخبار کے نیوز ایڈیٹر اپنی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے سامنے میز پر کاغذات کا ڈھیر لگا تھا۔ میں نے تازہ واقعہ کے بارے میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader