Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

پتھر کھسک گیا

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

پیا۔ اس کے بعد ہم سب لوگوں نے دودھ پیا۔ میرے اللہ یہ عمل اگر میں نے تیری رضا کے لئے کیا ہے تو اس چٹان کی مصیبت سے تو ہم کو نجات دے دے۔ چنانچہ چٹان تھوڑی سی کھسک گئی مگر اتنی زیادہ نہیں کہ وہ تینوں نکل سکیں۔ اب دوسرے آدمی نے دعا شروع کی۔ اس نے کہا: خدایا‘ میرے چچا کی ایک لڑکی تھی‘ وہ مجھ کو بہت محبوب تھی‘ اس سے مجھ کو اسی قسم کی شدید محبت تھی جو مردوں کو عورتوں سے ں۔ رہ رہ کر بہت ربط بڑھتا اس نے مدت بیت اس روز بروز ورزؤں ہوتی ہے۔ میں نے اس سے اپنے نفس کی خواہش پوری کرنی چاہی مگر وہ منع کرتی رہی۔ کچھ عرصہ بعد وہ قحط سالی کی مصیبت میں پریشان ہوئی۔ وہ مدد کے لئے میرے پاس آئی۔ میں نے اس کو ۱۲۰ دینار اس شرط پر دئے کہ وہ مجھ کو اپنے اوپر قابو دیدے۔ وہ اس کے لئے تیار ہوگئی۔ یہاں تک کہ جب میں اس کے اوپر پوری طرح قادر ہوگیا اور اس کے دونوں پیروں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا: خدا سے ڈراور مہر کو اس کے حق کے بغیر نہ توڑ۔ میں اس سے باز آ گیا حالاں کہ وہ مجھ کو تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی۔ اور جو دینار میں نے اس کو دئے تھے وہ بھی اس سے واپس نہیں لئے۔ خدایا! اگر میں نے یہ کام تیری رضا کے لئے کیا ہے تو اس مصیبت سے تو ہم کو نجات دے دے جس میں ہم اس وقت پھنسے ہوئے ہیں۔ چنانچہ چٹان تھوڑی سی ہٹ گئی مگر اتنی نہیں کہ وہ نکل سکیں۔ اب تیسرے آدمی نے دعا کی۔ اس نے کہا۔ خدایا! میں نے کچھ مزدور اجرت پر رکھے ۔ کام کے بعد میں نے سب کو اجرت دیدی۔ مگر ایک مزدور اپنی اجرت چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی چھوڑی ہوئی رقم کو کاروبار میں لگا دیا۔ اس سے مجھ کو بہت زیادہ مالی فائدہ ہوا۔ کچھ عرصہ بعد وہ آدمی واپس آیا اور کہا: اے اللہ کے بندے! میری اجرت مجھ کو دیدے۔ میں نے اس سے کہا: یہ اونٹ، یہ گائیں، یہ بکریاں اور یہ غلام جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب تمہاری مزدوری ہے۔ اس نے کہا: اے خدا کے بندے! مجھ سے مذاق نہ کر۔ میں نے کہا کہ میں تم سے مذاق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page