پتھر کھسک گیا
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں کر رہا ہوں ۔ یہ سب تمہارا ہی ہے۔ اس کے بعد اس نے سب چیزیں لیں اور ان کو اس طرح ہنکا لے گیا کہ ان میں سے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ خدایا! اگر یہ میں نے تیری رضا کے لئے کیا ہے تو اس مصیبت سے تو ہم کو نجات دیدے۔ اس کے بعد چٹان ہٹ گئی اور تینوں باہر نکل کر روانہ ہوگئے (بخاری ومسلم) یہ روایت صحیحین میں آئی ہے اور اس کے واقعہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دعا ایسی چیز ہے جو پتھر کی چٹان کو بھی اپنی جگہ سے کھسکا دیتی ہے۔ مگر یہ وہ دعا نہیں ہے جو زبان سے بس الفاظ کی صورت میں نکلتی ہے اور آدمی کی حقیقی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مذکورہ مثال بتاتی ہے کہ دعا سے چٹان کھسکنے کا واقعہ ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ جو اسنے آپ کو پوری طرح خدا کے تابع کر دیں، جو اپنے اور خدا کو نگر اں بنالیں ۔ حتیٰ کہ بھوک کی شدت اور بیوی بچوں کی محبت بھی ان کو خدا کی پسندیدہ راہ سے نہ ہٹا سکے۔ انتہائی نازک جذباتی مواقع پر بھی خدا کی یاد دلانا ان کو چونکا دینے کے لئے کافی ہو ہیجان خیز لمحات میں بھی جب خدا کا نام لیا جائے تو ان کے چلتے ہوئے قدم رک جائیں اور ان کے اٹھے ہوئے ہاتھ اپنی حرکت بند کر دیں۔ آخرت کے حساب کا اندیشہ ان پر اتنا زیادہ طاری ہو کہ ایک حق دار کا حق ادا کرنے کی خاطر اگر ان کو اپنا سارا اثاثہ دے دینا پڑے تو اس سے بھی وہ دریغ نہ کریں۔ ایک آدمی اگر اپنا مطالبہ لے کر ان کے سامنے کھڑا ہو جائے تو وہ فوراً اس کو مان لیں خواہ مطالبہ کرنے والا کتنا ہی بے زور ہو اور اس کے مقابلہ میں ان کو کتنی ہی زیادہ قوت حاصل ہو خدا کے بندے وہ ہیں جو اپنے نفس کو کچلے اور اپنے فائدوں کو ذبح کرنے کی قیمت پر خدا کو اختیار کرتے ہیں۔ اور جو لوگ اس طرح خدا کو اپنا لیں وہ اگر کہیں کہ خدایا تو اس پتھر کی چٹان کو کھسکادے تو خدا پتھر کی چٹان کو بھی ان کے لئے کھسکا دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader