Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

اسما حُسنیٰ اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

میں سے ایک کم۔ جس شخص نے ان کا احصا کیا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اس حدیثِ رسول میں 'احصاء کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ احصا کا مطلب مجرد شمار کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد اسماء حسنی کا عارفانہ اور اک ہے۔ عربی کے مشہور لغت 'المعجم الوسیط میں اس کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: احصی الشئی : ای عرف قدر ہ۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہاں 'احصاء سے مراد احصاء شعوری ہے نہ کہ احصاء لسانی‘ یعنی اسماء حسنیٰ کی معرفت۔ اللہ کے یہ نام دراصل اللہ کی صفات کے مختلف پہلو ہیں۔ آدمی خدا پر اور اس کی تخلیقات پر غور کرتا ہے تو خدا کی خدائی کے مختلف پہلو اس کے سامنے آتے ہیں۔ انہیں پہلوؤں کا شعوری ادراک ہونا‘ ان کا احصاء کرنا ہے۔ اور جو لوگ اس اعتبار سے خدا کی معرفت حاصل کریں‘ وہ بلا شبہ جنت میں جائیں گے، کیونکہ جنت در اصل معرفت خداوندی کی قیمت ہے۔ حدیث میں ننانوے کا لفظ محض اعتباری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بے شمار نام ہیں۔ امام رازی نے اپنی تفسیر میں بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ: ان لله خمسة الاف اسم - یعنی اللہ کے پانچ ہزار نام ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر جلد 1، صفحہ 19)، مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بے شمار نام ہیں۔ حدیث میں اسماء حسنیٰ کی تعداد ننانوے بتائی گئی ہے۔ قرآن کا مطالعہ کر کے علماء نے یہ تمام اسماء حسنیٰ نام بہ نام دریافت کئے ہیں، لیکن یہ نام خدا کے لامتناہی کمالات کی مطلق گنتی کو نہیں بتاتے۔ یہ تمام نام در اصل انسان کی نسبت سے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر جب عبدیت جاگتی ہے اور شعورِ خداوندی اس کے اندر بیدار ہوتا ہے تو فطری طور پر اس کے اندر مختلف قسم کی ربانی کیفیات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ اسماء حسنیٰ دراصل انہیں ربانی کیفیات کے لئے موزوں الفاظ (appropriate words) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page