Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

مثلاً انسان اپنے وجود پر غور کرتا ہے، جو کہ احسن تقویم کا نمونہ ہے (التین: 4)۔ وہ نیچر پر غور کرتا ہے، جس میں ہر چیز حیرت انگیز طور پر اپنے آخری ماڈل پر ہے۔ وہ زمین اور آسمان پر غور کرتا ہے، جس میں کہیں کوئی خلل یا نقص موجود نہیں (الملک: 3)۔ یہ سوچ اور یہ مشاہدہ آدمی کے اندر ایک پر تموج تجربہ (thrilling experience) پیدا کرتا ہے۔ اس وقت آدمی بے اختیار ان طور پر جھا منگتا ہے کہ اس را کے لیے موزوں الفاظ ہوا، جن کی زہری لوح اختیارانہ طور پر یہ چاہتلےکہ اس کے پاس ایسے عورتوں الفاظ ہوں جن کے ذریعے وہ ان لطیف احساسات کا اظہار (express) کر سکے۔ اس وقت قرآن اس کی عین طلب کے مطابق اس کو یہ الفاظ فراہم کر دیتا ہے: فتبارک الله احسن الخالقین (المومنون:14) خدا کے نام میں الحاد خدائی صفات کی یہ تعداد اوراصل الحاذ کے مقابلے میں بتائی گئی ہے جیسا کہ خودقر آن میں آیا ہے (الاعراف 180)۔ الحاد کے معنی انحراف (deviation) کے ہیں۔ یہ الحاد یا انحراف سب سے زیادہ فلسفے میں کیا گیا ہے۔ فلسفے میں خدا کا تصور ایک بے صفاتی شخصیت (attributeless being) کے طور پر کیا گیا ہے۔ اسی فلسفیانہ تصور کے زیر اثر، ہندوازم میں 'نراکار خدا' (formless being) کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔ مشہور جرمن فلسفی فریڈرک ہیگل (Friedrigh Hegel) نے اس کو روحِ عالم (world spirit) کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ایک اور فلسفی نے اس کو مجرد تصور (abstract idea) قرار دیا ہے۔ یہ فلسفیانہ تصور، بعض بڑے مذاہب کی اعتقادیات میں بھی داخل ہو گیا۔ اس تصور کے مطابق، خدا کی کوئی مستقل اور علاحدہ شخصیت نہیں۔ وہ ایک بے شخصیت اور بے صفات ہستی ہے، یعنی زمین کی قوتِ کشش (gravity) یا کاسمک ریز (cosmic rays) کی طرح۔ قرآن میں اسماءِ حسنیٰ کا بیان دراصل اسی فلسفیانہ گمراہی کی تردید کے طور پر آیا ہے نہ کہ اسماءِ الہیٰ کی متعین تعداد کو بتانے کے لئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page