Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

فلسفے میں یا اس سے متاثر مذاہب میں خدا کا تصور خالق کے طور پر نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس تصور کے مطابق تخلیق کے تمام مظاہر خود خدا کا اپنا ظہور ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک مجرد فلسفیانہ قیاس ہے۔ یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ کائنات میں متنوع مظاہر پائے جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ صرف ایک بے بنیاد قیاس ہے کہ ایک ایسا مفروضہ خدا، جو ہر قسم کی صفات سے گلی طور پر خالی ہو وہ متنوع تخلیقات کی صورت میں ظاہر ہو جائے۔ اس قسم کے تضادات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا کا مذکورہ تصور محض ایک فلسفیانہ قیاس ہے، اس کے حق میں کوئی علمی بنیاد موجود نہیں۔ سائنسی مطالعہ موجودہ زمانے میں فطرت کے سائنسی مطالعے کے بعد خدا کے متعلق یہ فلسفیانہ تصور عملاً بے اصل ثابت ہو چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی مطالعے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کائنات کے اندر کمال درجے میں معنویت (meaning) پائی جاتی ہے۔ اس قسم کی معنویت اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس کا خالق ایک ذہن (mind) ہو۔ چنانچہ سائنس میں خدا کا نام نہ لیتے ہوئے یہ مان لیا گیا ہے کہ کائنات کو وجود میں لانے والا ایک ذہن نقاش (intelligent desinger) ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ ستمبر 2007 ء سائنس اور الہیات)۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک ایسے خدا کا تصور پیدائشی طور پر موجود ہے جو متنوع صفات کا حامل ہو۔ اس طرح سائنسی مطالعے میں کائنات اگر چہ آخری طور پر ایک ہی یونٹ (atom) کا مختلف ظہور ہے، لیکن یہ ایٹم حیرت انگیز طور پر مختلف اور متضاد قسم کی با معنی چیزوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ انسانی فطرت اور خارجی کائنات دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ کائنات میں ایک طرف بہت زیادہ اختلاف اور تنوع ہے اور دوسری طرف کائنات کے مختلف اجزا میں غیر معمولی ہم آہنگی (harmony) پائی جاتی ہے۔ ایسی حالت میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page