سائنسی مطالعہ
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کا ذہن یہ چاہتا ہے کہ وہ خدا کی متنوع حیثیتوں کا تصور کر سکے۔ قرآن میں مذکور اسماءِ حسنیٰ اسی سوال کا جواب ہیں۔ خدا کا فزیکل ماڈل خدا کا عقیدہ انسان کے اندر ہمیشہ سے پایا گیا ہے۔ اینتھر اپالوجی (anthropology) کے تحت جو مطالعہ کیا گیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسانی سماج کے اندر کسی نہ کسی اعتبار سے خدا ے مت بڑھا کھایا کیا ہے، اس کے عموم ہوتا ہے کہ ہر انسان سماج کی نہ سی اعتبار سے خدا کو مانتا رہا ہے۔ خدا کا عقیدہ فلسفیوں کے یہاں بھی پایا گیا ہے اور اہل مذاہب کے یہاں بھی۔ لیکن فلسفہ اور مذہب دونوں میں خدا کا عقیدہ ایک بے صفات خدا (attributeless (God کی حیثیت سے پایا جاتا رہا ہے، یعنی کاسمک ریز (cosmic rays) یا زمین کی قوتِ کشش (gravity) کی مانند۔ میں بحجر خدا (abstract God) انسان کی ذہنی گرفت میں نہیں آتا۔ انسان خدا کا ایک ایسا ماڈل بنانا چاہتا ہے، جس میں وہ خدا کو صفات کی اصطلاحوں (in term of attributes) میں قابل فہم بنا سکے۔ انسان کی یہی ضرورت ہے جس کے غیر فطری اظہار کے نتیجے میں بت وجود میں آئے۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ الفاظ یا ناموں کے ذریعے کسی حقیقت کو اپنے ذہن کی گرفت میں لاتا ہے۔ اس طرح مختلف بت انسان کو مختلف الفاظ یا نام دے دیتے ہیں جن کے ذریعے وہ بزعم خود ایک ماڈل کے روپ میں خدا کا ادراک کرتا ہے۔ انسان نے اپنی اسی فطری ضرورت کو پورا کرنے کے لئے غلط طور پر بت بنائے اور ان کی پرستش شروع کر دی۔ لیکن بتوں کی شکل میں خدا کا ماڈل بنانا ایک بے بنیاد قیاس ہے، کیوں کہ خدا کو بتوں کا روپ دینا ایک لامحدود ہستی کو محدود کا روپ دینا ہے یہ خدا کا ایک بگڑا ہوا فارم ہے۔ یہ خدا کے نام پر خدا کی نفی کے ہم معنی ہے۔ بت چوں کہ مٹی یا پتھر کے ہوتے ہیں اور انسان خود ان بتوں کو بناتا ہے۔ خدا کو بتوں کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader