Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

اسماءِ حسنیٰ اور دیگر مذاہب

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

انہوں نے بخوشی ایسا کیا۔ مسیحی چرچ کے مبینہ عقیدے کے مطابق خدا تثلیث کا ایک حصہ ہے۔ مسیحی عقیدے کو ٹری نٹی (trinity) کے لفظ میں بیان کیا جاتا ہے، یعنی تین میں ایک اور ایک میں تین۔ اس عقیدے کے مطابق حضرت مسیح عام انسان نہیں تھے، بلکہ وہ خدا کا ایک حصہ تھے۔ ایسی حالت میں حضرت مسیح کا مذکورہ واقعہ انسان کے لئے خدا کے معاملے میں یقین کا ایسی حالت میں شرکت کی نامزد کردہ الہ انسان کے لیے خدائے تعالے کے دائیں میں نہ سرچشمہ نہیں بن سکتا۔ اس واقعے میں خدا خود بے بس ہو کر فریاد کر رہا ہے۔ وہ خود اپنے آپ کو ایک متروک وجود سمجھتا ہے۔ اس کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ اپنے آپ کو وقت کے حکم رانوں سے محفوظ رکھ سکے۔ ایسا خدا دوسرے انسانوں کے لیے کس طرح اعتماد کا سرچشمہ بن سکتا ہے۔ انسان کو ایک ایسا خدا چاہیے جو اس کے لیے اعتماد کا ذریعہ بن سکے، مگر مسیحیت انسان کو ایک ایسے خدا کا تصور دیتی ہے جس میں خدا خود ہی بے بس دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے بعد ان مذاہب کو لیجیے جن کو آریَن مذاہب کہا جاتا ہے، یعنی ہندوازم وغیرہ۔ ان مذاہب میں پرسنل گاڈ (personal God) کا تصور موجود نہیں۔ ان مذاہب میں اگرچہ خدا کا لفظ استعمال ہوتا ہے، مگر وہ صرف ایک علامتی لفظ ہوتا ہے، کیونکہ ان مذاہب میں عقیدہ خدا کے تشخص کے لیے کسی مستقل وجود کا کوئی تصور نہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، آرین مذاہب میں خدا کو نراکار (formless God) مانا جاتا ہے۔ ان کے عقیدے کے مطابق خدا ”نِرگُن“ ہے، یعنی اس کی کوئی صفت نہیں۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ خدا کو ایک متعین ہستی کے طور پر اپنے ذہن میں لائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو مذہب میں خدا کی کوئی عبادت گاہ نہیں ہوتی۔ ان کے یہاں یا بتوں کی پرستش ہوتی ہے یا گرودوؤں کی۔ کیونکہ بت یا گرو کا تشخص ان کو ممکن دکھائی دیتا ہے، لیکن خدا کا تشخص ان کے لیے قابلِ تصور نہیں ہوتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page