دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
عقیدہ خدا اور اسماء حسنیٰ خدا کا عقیدہ انسان کے لاشعور میں پیوست ہے۔ انسان اپنے فطری تقاضے کے تحت اس لاشعور کو شعور میں لانا چاہتا ہے۔ اسماءِ حسنیٰ کا تصور انسان کی اسی فطری ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ اسماءِ حسنیٰ کی حیثیت ایک فکری ماڈل کی ہے۔ یہ انسان کے اپنے فریم ورک کے مطابق خدا کی ہستی کو اس کے لئے قابل فہم بناتا ہے۔ مختلف مذاہب میں خدا کی ہستی کے مختلف ماڈل بتائے گئے ہیں۔ ان میں سے دو ماڈل زیادہ معروف ہیں۔ آکار ماڈل اور نراکار ماڈل، مگر یہ دونوں انسانی فریم ورک کے اعتبار سے انسان کے لئے قابل فہم ماڈل نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ماڈل صرف کاغذ میں یا لفظوں میں پائے جاتے ہیں، وہ حقیقی معنوں میں انسانی شعور کا حصہ نہ بن سکے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ دونوں ماڈل انسان کی نسبت سے ناقص ماڈل ہیں۔ آکار ماڈل دوسرے لفظوں میں بت کا ماڈل ایک ایسے خدا کا تصور دیتا ہے جس کا بظاہر ایک فارم تو ہے، مگر وہ مکمل طور پر بے صفاتی (powerless) ہے۔ دوسری طرف نزا کار ماڈل بظاہر ایک طاقت ہے مگر یہ طاقت کششِ ارض (gravity) کی طرح بے صفاتی (attributeless) ہے۔ اس طرح یہ دونوں ہی ماڈل انسان کے معلوم فریم ورک کی نسبت سے مبہم ماڈل ہیں، وہ انسانی فطرت کا جواب فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ اسماء حسنیٰ دراصل اسی خلا کو پُر کرتے ہیں۔ اسماءِ حسنیٰ: تلاش فطرت کا جواب اسماءِ حسنیٰ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے یہ تمام نام انسان کی نسبت سے خدا کا تعارف ہیں۔ انسان فطری طور پر اپنے سے ایک برتر ہستی کو چاہتا ہے۔ نفسیاتی مطالعے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر ایک متلاشی حیوان (seeking animal) ہے۔ انسان اپنے پورے وجود کے اعتبار سے ایک ذاتِ اعلیٰ کا متلاشی ہے، ایک ایسی اعلیٰ اور برتر ذات جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader