Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

اسماءِ حسنیٰ: تلاش فطرت کا جواب

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی کمیوں کی تلافی کرے جو اس کے جذبات اور احساسات کا مرکز و محور بن سکے۔ اسماء حسنی دراصل اسی سوال کا جواب ہیں ۔ اسماء حسنیٰ کا مطلب ہے صفاتِ حسنیٰ۔ خدا کی یہ صفات جو اسماء حسنیٰ کے ذریعے بتائی گئی ہیں، وہ علی الاطلاق حیثیت سے خدائے برتر کا تعارف نہیں ہیں، بلکہ وہ انسان کی نسبت سے اس کے مطلوب خدا کا تعارف ہیں۔ چنانچہ جب کوئی انسان ان اسماءِ حسنیٰ کو ان کی پوری معنویت کے ساتھ جان لیتا ہے تو اچانک اس کو دریافت ہوتا ہے کہ وہ جس خدائے برتر کی تلاش میں تھا، اس کا تعارف اس کو اسماءِ حسنیٰ کی صورت میں مل گیا۔ مثال کے طور پر اسماءِ حسنیٰ میں سے ایک نام ”الغنی“ ہے ۔غنی کے لفظی معنی بے نیاز کے ہیں، یعنی وہ ہستی جس کو دوسروں سے کچھ لینے کی ضرورت نہ ہو لیکن اس کو یہ طاقت ہو کہ وہ دوسروں کی تمام حاجتوں کو پورا کر سکے۔ یہ احساس ہر انسان کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر چھپا ہوا ہے۔ اس کے بعد جب انسان اسماءِ حسنیٰ کے ذریعے یہ جانتا ہے کہ خدا کی ایک صفت اس کا غنی ہونا ہے، تو فوراً ہی وہ جان لیتا ہے کہ وہ جس خدا کی تلاش میں تھا، اس کو اس نے یہاں دریافت کر لیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی اس آیت میں بتائی گئی ہے: یا ایھا الناس انتم الفقراء الی الله ، واللہ ھو الغنی الحمید۔ یعنی اے لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو بے نیاز ہے، تعریف والا ہے۔ (فاطر: 15)۔ اسی طرح ایک اور جذبہ جو سارے انسانوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر پایا جاتا ہے، وہ یہ کہ ہر انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی مخلوق ہے جو رزق کی محتاج ہے۔ رزق سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں، جن پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ انسان ہر لمحہ یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ بہت سی چیزوں کا ضرورت مند ہے۔ پانی، غذا، ہوا، آکسیجن اور روشنی، وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں نہایت مناسب انداز میں اور نہایت وافر طور پر دنیا میں موجود ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page